جھنگ، 17 سالہ طالبہ کا مبینہ اغوا اور ہلاکت کیس ، 4 مرکزی ملزمان گرفتار
جھنگ : پنجاب کے شہر جھنگ میں فرسٹ ایئر کی 17 سالہ طالبہ عشال فاطمہ کے مبینہ اغوا، اجتماعی زیادتی اور ہلاکت کے واقعے کے بعد تحقیقات تیز کر دی گئی ہیں، جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 4 مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس اور ذرائع کے مطابق واقعے کا آغاز 4 جون 2026 کو اس وقت ہوا جب سلطان کالونی کی رہائشی عشال فاطمہ کالج سے رول نمبر سلپ لینے کے لیے گھر سے روانہ ہوئیں لیکن واپس نہ آئیں۔
لاپتا ہونے کے اگلے روز 5 جون کو اہلِ خانہ کو اطلاع ملی کہ ان کی بیٹی بے ہوشی اور تشویشناک حالت میں ایک نجی اسپتال میں موجود ہے۔ حالت غیر ہونے کے باعث انہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (DHQ) اسپتال جھنگ منتقل کیا گیا، جہاں وہ زیرِ علاج رہنے کے بعد 8 جون کو انتقال کر گئیں۔
عشال فاطمہ کے والد نے پولیس کو دیے گئے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بیٹی کو منصوبہ بندی کے تحت اغوا کیا گیا، بعد ازاں مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور حالت بگڑنے پر زہریلی یا نشہ آور اشیا دی گئیں۔ والد نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور متعلقہ حکام سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے مقدمے میں اغوا، اجتماعی زیادتی اور قتل کی سخت دفعات شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مقدمہ تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن جھنگ میں درج کیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق عوامی دباؤ اور کیس کی حساسیت کے پیش نظر فوری کارروائی کرتے ہوئے جائے وقوعہ اور نجی اسپتال کے اطراف سے حاصل شدہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر سائنسی شواہد کی بنیاد پر چار مرکزی ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
گرفتار ملزمان کی شناخت:خلیل الرحمان (مرکزی مشتبہ ملزم) ، ہامش جوگی، حسن کورایانا، حسیب خان
پولیس حکام کے مطابق مبینہ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی اور نجی اسپتال میں دی جانے والی ادویات کے نمونے بھی قبضے میں لے لیے گئے ہیں، جبکہ دیگر ممکنہ سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ نے اسے ہائی پروفائل کیس قرار دیا ہے اور تفتیشی افسر کو 11 جون کو تمام دستاویزی ریکارڈ، شواہد اور کیس ڈائری سمیت طلب کر لیا ہے تاکہ تحقیقات کی نگرانی کی جا سکے۔
پولیس کے مطابق موت کی حتمی وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ نمونے پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی (PFSA) کو بھجوائے جا رہے ہیں۔ تفصیلی پوسٹ مارٹم اور کیمیکل ایگزامینر رپورٹ موصول ہونے کے بعد قانون کے مطابق مزید دفعات شامل کی جا سکتی ہیں۔