کھیل - 03 مارچ 2026
پاکستان کا عالمی مطالبہ: اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا اور جنگی جرائم پر احتساب ناگزیر
دنیا - 29 نومبر 2025
پاکستان نے فلسطینی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج کا غزہ سمیت تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے مکمل انخلا اور اسرائیل کے جنگی جرائم پر عالمی احتساب وقت کی اہم ضرورت ہے۔
7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران غزہ میں دسیوں ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ پورے کے پورے محلّے، ہسپتال، اسکول اور بنیادی ڈھانچہ راکھ کا ڈھیر بن چکا ہے۔ عالمی دباؤ کے نتیجے میں 10 اکتوبر 2025 سے غزہ میں فائر بندی نافذ ہوئی، تاہم اسرائیلی حملے وقفے وقفے سے اب بھی جاری ہیں۔
29 نومبر کو فلسطینی عوام سے یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغامات میں کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل عزم و مستقل وابستگی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ فلسطینیوں کی حمایت پاکستان کی تاریخ کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ قیامِ پاکستان سے سات سال قبل 1940 کی قراردادِ لاہور میں بھی فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت شامل تھی۔
وزیراعظم اور صدر نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت پر مستقل جنگ بندی، انسانیت دوست امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی، شہریوں کے تحفظ اور اسرائیلی جنگی جرائم پر عالمی سطح پر مکمل احتساب کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنگ بندی کا تسلسل ضروری ہے، اسرائیل کو تمام خلاف ورزیاں روکنا ہوں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ غزہ میں ہونی والی بربریت کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے کی سنگین صورتِ حال کو بھی نظرانداز نہیں ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ غیر قانونی اسرائیلی آبادکاریوں کا پھیلاؤ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور امن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
صدر آصف زرداری نے فلسطینی عوام کے لیے دعا کی اور خواہش ظاہر کی کہ وہ ایک دن مسجد اقصیٰ میں فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز ادا کر سکیں۔
آخر میں صدر اور وزیراعظم دونوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے جائز حقِ خود ارادیت اور ایک آزاد، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر مسلسل فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت کرتا ہے—جس کی بنیاد 1967 سے قبل کی سرحدیں ہوں اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
دیکھیں

