نکولس مادورو کے اغوا کے بعد وینزویلا کی سپریم کورٹ نے نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو قائم مقام صدر مقرر کر دیا

news-banner

دنیا - 04 جنوری 2026

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کے اغوا کے بعد وینزویلا کی سپریم کورٹ نے نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو عارضی طور پر صدارتی ذمہ داریاں سنبھالنے کا حکم دے دیا ہے۔

 

عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق ڈیلسی روڈریگز انتظامی تسلسل اور ملک کے ہمہ جہت دفاع کو یقینی بنانے کے لیے بطور قائم مقام صدر تمام آئینی اختیارات، فرائض اور ذمہ داریاں ادا کریں گی۔

 

قومی ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے ڈیلسی روڈریگز نے ملک پر ہونے والی مسلح جارحیت کی شدید مذمت کی اور اعلان کیا کہ وینزویلا کی دفاعی کونسل کو فعال کر دیا گیا ہے۔ 

 

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں حکومت کی جانب سے مزید اقدامات سامنے آئیں گے اور وینزویلا باوقار اور قانونی مکالمے کے لیے تیار ہے۔

 

سپریم کورٹ کے ججوں نے نکولس مادورو کو مستقل طور پر عہدے سے غیر حاضر قرار دینے سے گریز کیا، کیونکہ ایسی صورت میں آئین کے تحت 30 دن کے اندر نئے انتخابات کروانا لازم ہوتا۔

 

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اقتدار کی محفوظ منتقلی تک امریکا وینزویلا کے انتظامی معاملات سنبھالے گا اور امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا میں کام کریں گی۔

 

وینزویلا کی حکومت نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکی کارروائی کا مقصد تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ ہے۔

 

 قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے واضح کیا کہ نکولس مادورو ہی وینزویلا کے آئینی صدر ہیں، ملک کسی کی کالونی نہیں بنے گا، اور قوم کو اتحاد و صبر کے ساتھ ملکی دفاع کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

 

اسی تناظر میں حکومت نے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے خصوصی دفاعی کونسل کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔