ڈی جی آئی ایس پی آر کا دوٹوک مؤقف: دہشتگردی پوری قوم کی جنگ ہے، خیبرپختونخوا کو دہشتگردوں کے حوالے نہیں کریں گے

news-banner

پاکستان - 06 جنوری 2026

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتیں، سیکیورٹی فورسز اور ریاست ایک مشترکہ مؤقف پر متفق ہیں، اور اس قومی بیانیے سے کسی کو ہمیں ہٹانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

 جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے۔

 

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے، تاہم گزشتہ برس اس جنگ میں غیر معمولی شدت دیکھی گئی۔

 

 انہوں نے بتایا کہ 2025 کے دوران ملک بھر میں 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کے نتیجے میں قریباً 5 ہزار 300 دہشتگرد مارے گئے، جبکہ 1 ہزار 235 پاکستانی شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

 

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے رہے، جبکہ افغانستان دہشتگردوں کے لیے بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے، جہاں سے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

 

 ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کی قیادت اور تربیتی مراکز افغان سرزمین پر موجود ہیں۔

 

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ خوارج دہشتگرد ہیں اور ان کا اسلام، پاکستان یا کسی قومیت سے کوئی تعلق نہیں۔

 

 انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف ریاستی پالیسی پر مکمل عملدرآمد جاری ہے اور یہ جنگ پوری قوت سے جاری رکھی جائے گی۔

 

 ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کو دہشتگردوں کے حوالے نہیں کیا جائے گا اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائی ریاست کا قانونی اور آئینی حق ہے۔