کاروبار - 15 جنوری 2026
امریکی میڈیا کی وارننگ: ٹرمپ ایران پر مختصر مگر فیصلہ کن حملہ کر سکتے ہیں
دنیا - 15 جنوری 2026
امریکی ٹی وی رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر زور دار اور فیصلہ کن حملے پر غور کر رہے ہیں۔
اس پیش بندی کے طور پر مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران سے نکالنا شروع کر دیا ہے، جبکہ امریکی فوجی اڈوں پر نفری میں کمی کی گئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں امن و امان برقرار ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ طویل جنگ کی بجائے مختصر اور فیصلہ کن کارروائی کو ترجیح دیتے ہیں۔
ایران نے اپنی فضائی حدود پہلے بند کرنے کے بعد کچھ دیر کے لیے جزوی طور پر بحال کی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران میں امن قائم ہے اور مظاہرین کو سخت سزائیں دینے کے الزامات بے بنیاد مغربی پروپیگنڈے ہیں۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ احتجاجات میں بیرونی مداخلت سے ملک کا عزم کمزور نہیں ہو گا۔ بعض مظاہرین نے پولیس پر حملے کیے اور داعش طرز کی دہشتگردانہ کارروائیاں بھی ہوئیں۔
دوسری جانب، اسرائیل نے فوری دفاعی تیاریاں شروع کر دی ہیں اور شمالی علاقوں میں بم شیلٹر کھولنا شروع کر دیے ہیں، کیونکہ وہ توقع کر رہے ہیں کہ امریکی حملے سے پہلے وارننگ دی جائے گی۔
برطانوی اور دیگر مغربی ذرائع کے مطابق ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاریاں جاری ہیں، جس میں 50 اہداف بشمول پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹرز اور 23 فوجی اڈے شامل ہیں۔
امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے بعض فوجی اہلکاروں کا انخلا شروع کر دیا ہے، کیونکہ ایران نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ حملہ کرے تو ان اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
قطر نے تصدیق کی کہ العدید ایئر بیس پر عملے میں کمی علاقائی کشیدگی کے باعث کی جا رہی ہے۔
مزید برآں، ٹرمپ نے ایران کی قیادت کے لیے رضا پہلوی پر شک کا اظہار کیا۔ جرمن ایئرلائنز اور ایئر انڈیا نے اسرائیل اور ایران کی فضائی حدود کے لیے پروازیں بند کر دی ہیں۔
اسپین، پولینڈ اور اٹلی نے اپنے شہریوں کو ایران فوری چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
دیکھیں

