بھارتی اقدام مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی، کشمیری مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش: دفتر خارجہ

news-banner

دنیا - 17 جنوری 2026

وزارتِ خارجہ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بھارت کا حالیہ اقدام مذہبی امور میں کھلی مداخلت ہے جو مذہبی آزادی اور عقیدے کے بنیادی انسانی حق کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

 

 بیان میں کہا گیا کہ ان اقدامات کا مقصد مقبوضہ کشمیر کی مسلم آبادی کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا اور انہیں سماجی طور پر تنہا کرنا ہے۔

 

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذہبی شخصیات سے زبردستی ذاتی معلومات، تصاویر اور مسلکی وابستگیوں کا حصول منظم ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد نمازیوں میں خوف پیدا کرنا اور انہیں آزادانہ طور پر مذہبی فرائض ادا کرنے سے روکنا ہے۔

 

دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ اقدامات قابض بھارتی حکومت کی ہندوتوا نظریے اور اسلاموفوبیا پر مبنی پالیسیوں کا تسلسل ہیں، جہاں مساجد اور مسلم علما کو براہ راست نشانہ بنانا ان پالیسیوں کے امتیازی اور فرقہ وارانہ کردار کو بے نقاب کرتا ہے۔

 

بیان میں مزید کہا گیا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو بغیر کسی خوف، جبر یا امتیاز کے اپنے مذہب پر عمل کرنے کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے

 

 پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی جاری رکھتے ہوئے مذہبی جبر اور عدم برداشت کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کرتا رہے گا۔