اسرائیل کے انکار کے باوجود امریکا کا ایران کے مرکزی جوہری مرکز نطنز پر حملہ

news-banner

دنیا - 21 مارچ 2026

 امریکا نے ایران کے سب سے اہم جوہری مرکز نطنز پر حملہ کیا ہے، جبکہ اسرائیل نے اس کارروائی میں ملوث نہ ہونے کی واضح تردید کی ہے۔

 

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق صبح کے وقت امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں نطنز کی جوہری افزودگی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔

 

 بعض رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اس حملے میں پہلی بار بنکر بسٹر بم استعمال ہوئے۔

 

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ بین الاقوامی قوانین اور این پی ٹی کی خلاف ورزی ہے، تاہم خوش قسمتی سے کسی قسم کی تابکاری خارج نہیں ہوئی اور اردگرد کے علاقوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

 

یاد رہے کہ اس سے قبل یکم مارچ اور گزشتہ برس جون میں بھی نطنز پر حملے ہو چکے ہیں، اور ان حملوں کے بعد بھی تابکار مواد کے اخراج کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا تھا۔

 

 گزشتہ سال جون میں امریکا نے ایران کی تین جوہری تنصیبات نطنز، فردو اور اصفہان پر بمباری کی تھی، اور صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں نے ایرانی جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔

 

اسرائیلی فوج نے کہا کہ یہ کارروائی امریکا نے کی اور وہ امریکی سرگرمیوں پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔ نطنز جوہری مرکز تہران سے تقریباً 220 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور ایران کا سب سے اہم جوہری مرکز ہے۔