دنیا - 28 مارچ 2026
امریکی افواج نے ایران کے شہری علاقوں میں مبینہ طور پر بارودی سرنگیں گرائیں، امریکی اخبار رپورٹ
دنیا - 28 مارچ 2026
واشنگٹن: امریکی اخبار کے مطابق سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں جنوبی ایران کے ایک رہائشی علاقے میں امریکی بارودی سرنگیں بکھری ہوئی دیکھی گئی ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ سرنگیں امریکی ساختہ BLU-91/B اینٹی ٹینک بارودی سرنگیں ہیں، جو ’گیٹر مائن اسکیٹرنگ سسٹم‘ کے ذریعے طیاروں سے گرائی جاتی ہیں۔ چار ماہرین کے مطابق اس نظام کا واحد حامل ملک امریکا ہے۔
یہ بارودی سرنگیں شیراز شہر سے تقریباً تین میل کے فاصلے پر اس علاقے میں دیکھی گئیں جہاں ایرانی بیلسٹک میزائل تنصیبات موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان کا مقصد ممکنہ طور پر موبائل لانچرز کی رسائی مشکل بنانا ہو سکتا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دستیاب تصاویر سے واضح نہیں ہوتا کہ صرف اینٹی ٹینک یا اینٹی پرسنل سرنگیں استعمال کی گئی ہیں یا دونوں۔
ماہرین کے مطابق امریکی افواج نے اس نوعیت کی اینٹی ٹینک سرنگوں کا آخری استعمال 1991 کی خلیج جنگ میں اور اینٹی پرسنل سرنگوں کا آخری معلوم استعمال 2002 میں افغانستان میں کیا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اینٹی پرسنل سرنگوں پر عالمی پابندی کی مدت سے مطالبہ کرتی رہی ہیں، کیونکہ یہ شہریوں کو جنگ کے سالوں بعد بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
گزشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ نے بائیڈن دور کی پابندی واپس لے لی تھی، اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے میمو کے مطابق سرنگوں کے استعمال کے فیصلے کیس ٹو کیس بنیاد پر کیے جائیں گے اور شہریوں کو نقصان سے بچانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
دیکھیں

