دنیا - 28 مارچ 2026
آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے لیے جہاز ایران کو 20 لاکھ ڈالر تک ادا کر رہے ہیں: فنانشل ٹائمز
دنیا - 28 مارچ 2026
تہران: ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کو محفوظ گزرنے کی اجازت دینے کے لیے ایک نیا نظام تیار کر رہا ہے جو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران بھی فعال رہ سکتا ہے۔
جنگ کے آغاز سے پہلے اس آبی راستے سے روزانہ تقریباً 135 جہاز گزرتے تھے، لیکن یکم مارچ سے 25 مارچ کے درمیان صرف 116 جہاز گزرے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق ان جہازوں میں زیادہ تر چین، بھارت اور خلیجی ممالک کے تھے، جبکہ بعض ’ڈارک فلیٹ‘ کے جہاز بھی شامل تھے۔
اخبار کے مطابق بعض جہازوں نے محفوظ گزرنے کے لیے ایران کو 20 لاکھ ڈالر تک ادا کیے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے رکن علاالدین بروجردی نے بھی تصدیق کی کہ ہر جہاز اس اسٹریٹجک گزرگاہ کے لیے یہ فیس ادا کر رہا ہے۔
ایک ماہر نے بتایا کہ جہازوں کی منظوری متعلقہ ممالک کے سفارت خانوں کے ذریعے حکومت سے حکومت مذاکرات کے بعد دی جاتی ہے، جس کے بعد جہاز کو مخصوص کوڈ دیا جاتا ہے جو وہ آبنائے ہرمز کے قریب پہنچ کر بین الاقوامی ہنگامی ریڈیو پر نشر کرتا ہے۔
ایرانی حکام اس دوران جہاز کے کاغذات، کارگو کی منزل اور عملے کی قومیت کی جانچ کرتے ہیں۔
جہاز رانی کے ڈیٹا کے مطابق جنگ کے بعد گزرنے والے جہازوں کا کارگو امریکا یا یورپ کے لیے نہیں بلکہ زیادہ تر مشرقی ایشیا، کچھ مشرقی افریقا اور جنوبی امریکا کے لیے تھا۔
جہازوں نے ایرانی سمندری حدود کے ذریعے روایتی شپنگ لینز کی جگہ اختیار کی۔
دو پاکستانی ذرائع کے مطابق بعض تیسرے ممالک کے جہاز بھی پاکستانی پرچم کے تحت آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران کو ادائیگی ایک چیلنج ہے کیونکہ امریکی اور یورپی پابندیاں موجود ہیں، تاہم ایران نے خفیہ ادائیگی کے نیٹ ورک قائم کر رکھے ہیں۔
دیکھیں

