ہتک عزت کیس میں عدالت نے میشا شفیع پر 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا

news-banner

انٹرٹینمنٹ - 31 مارچ 2026

لاہور کی عدالت نے گلوکار علی ظفر کی جانب سے دائر ہتک عزت کے مقدمے میں میشا شفیع پر 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

 

ایڈیشنل سیشن جج نے آٹھ سال بعد ایک ارب روپے ہرجانے کے دعوے پر فیصلہ سنایا جو علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف دائر کیا تھا۔

 

اس مقدمے کے دوران 9 ججز تبدیل ہوئے جبکہ 283 پیشیاں ہوئیں اور 20 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔

 

عدالت نے میشا شفیع کی جانب سے علی ظفر پر عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے علی ظفر کے حق میں فیصلہ سنایا اور میشا شفیع کے خلاف دعویٰ ڈگری کرتے ہوئے ان پر 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

 

علی ظفر کے وکیل عمر طارق گل نے اپنے دلائل میں مؤقف اختیار کیا کہ ہراسانی کے الزامات سے ان کے مؤکل کی شہرت کو نقصان پہنچا اور ان الزامات کے حق میں کوئی گواہ موجود نہیں، اس لیے عدالت سے ہرجانہ دینے کی استدعا کی گئی۔

 

دوسری جانب میشا شفیع کے وکیل ثاقب جیلانی نے مؤقف اپنایا کہ علی ظفر نے میشا شفیع کو ہراساں کیا جس کے بعد انہوں نے ان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کیا۔

 

 انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں عموماً گواہ موجود نہیں ہوتے اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے مطابق متاثرہ خاتون کی گواہی بھی قابل قبول ہو سکتی ہے۔

 

عدالت نے دونوں جانب کے دلائل، گواہوں کے بیانات اور جرح مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے بعد میں سنایا گیا۔

 

علی ظفر نے اپنے حق میں 13 جبکہ میشا شفیع نے 7 گواہ پیش کیے، یہ مقدمہ 2018 میں دائر کیا گیا تھا۔