سائنس دانوں کے دستانوں سے متعلق ہوشربا انکشاف

news-banner

تازہ ترین - 31 مارچ 2026

رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کی شائع کردہ نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ قدرت اور انسانی اعضا میں پائے جانے والے مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی کے بارے میں جو مقدار سمجھی جا رہی تھی، وہ ممکنہ طور پر سائنس دانوں کے لیبارٹری دستانوں میں موجود ایک مرکب کی وجہ سے بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی تھی۔

 

حالیہ برسوں میں تشویشناک رپورٹس میں بتایا گیا کہ مائیکرو پلاسٹکس، یعنی پانچ ملی میٹر سے چھوٹے ذرات، دریاؤں، مٹی، انٹارکٹکا کی برف، خون، پیشاب اور ماں کے دودھ میں بھی پائے گئے ہیں۔ 

 

ایک رپورٹ میں تو انسانی دماغ میں ایک چائے کے چمچ کے برابر پلاسٹک ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

 

تاہم یونیورسٹی آف مشیگن کے سائنس دانوں نے یہ امکان ظاہر کیا کہ یہ نمونے دراصل لیبارٹری دستانوں پر موجود نہایت باریک مرکبات سے آلودہ ہو سکتے ہیں۔

 

تحقیق کے مطابق دستانوں سے خارج ہونے والی نہایت معمولی باقیات، جنہیں اسٹیریٹ سالٹس کہا جاتا ہے، آسانی سے مائیکرو پلاسٹک پولی ایتھائلین سمجھ لی جاتی ہیں۔