خوراک کم کرنے کے باوجود وزن کم کیوں نہیں ہورہا؟ حیرت انگیز راز سامنے آگیا

news-banner

تازہ ترین - 31 مارچ 2026

ماہرین کے مطابق صرف کیلوریز گننا وزن کم کرنے کے لیے کافی نہیں رہا، اب توجہ اس بات پر بھی دینی ہوگی کہ ہم کھانا کب اور کس انداز میں کھاتے ہیں۔

 

برطانیہ کی یونیورسٹی آف سرے کی تحقیق، جو جرنل آف نیوٹریشنل سائنس میں شائع ہوئی، بتاتی ہے کہ کھانے کے اوقات میں تبدیلی سے میٹابولزم اور چربی گھلانے کے عمل میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ 

 

انسانی جسم کا نظام محض کیلوریز کے حساب سے نہیں چلتا بلکہ اس میں کئی پیچیدہ عوامل شامل ہیں۔

 

اہم نکات:

 

  • ہر فرد کا نظامِ ہاضمہ مختلف ہوتا ہے، اسی لیے ایک ہی غذا مختلف افراد پر الگ اثر ڈالتی ہے۔
  •  
  • میٹابولزم کی رفتار اور ردعمل ہر شخص میں یکساں نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے وزن میں فرق آتا ہے۔
  •  
  • کھانے کے اوقات حیاتیاتی گھڑی (سرکیڈین ردھم) سے منسلک ہیں، جو ہاضمہ اور توانائی کے استعمال کو کنٹرول کرتی ہے۔
  •  

کرونو نیوٹریشن کا اصول:

 

  • دن کے آغاز میں زیادہ خوراک اور رات کا کھانا ہلکا رکھنے والے افراد تیزی سے وزن کم کر پاتے ہیں۔
  •  
  • رات گئے بھاری کھانا کھانے والے افراد کے لیے وزن قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
  •  

دلچسپ تجربہ:


ایک تحقیق میں شرکاء نے ناشتے کو 90 منٹ تاخیر سے اور رات کا کھانا 90 منٹ پہلے کھایا۔ 

 

اس معمولی تبدیلی سے کھانے کا دورانیہ تین گھنٹے کم ہوا، بھوک میں کمی آئی، اور جسمانی چربی میں واضح کمی دیکھی گئی۔

 

کھانے کے انداز کی اہمیت:

 

  • غذا کو اچھی طرح چبا کر کھانا اور جلدی جلدی نگلنے سے گریز کرنے سے نظامِ ہاضمہ بہتر کام کرتا ہے۔
  •  
  • آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا بھی توانائی کے مؤثر استعمال میں کردار ادا کرتے ہیں۔
  •  

نتیجہ:


صحت مند وزن کے لیے صرف کیلوریز پر توجہ دینا کافی نہیں۔

 

 کھانے کے اوقات، معیار اور عادات کو بہتر بنانے سے سخت ڈائٹنگ کے بغیر بھی وزن مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔