آئی ایم ایف کی شرط، شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا پلان وزیراعظم کو پیش

news-banner

کاروبار - 01 اپریل 2026

حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کے لیے گندم کے بعد شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے پلان تیار کرکے وزیراعظم کو منظوری کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق شوگر ملز کے لائسنس، امپورٹ اور ایکسپورٹ سمیت ہر شعبہ ڈی ریگولیٹ کیا جائے گا۔

 

 پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے آمادگی ظاہر کر دی ہے جبکہ سندھ کی سفارشات موصول ہونا باقی ہیں۔

 

وزارت صنعت و پیداوار کے پلان میں کسانوں کے تحفظ اور کارٹلائزیشن کی روک تھام کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کی تجویز شامل ہے۔ 

 

کسانوں کو گنا کاشت کرنے میں مکمل آزادی ہوگی، کسی زون یا اقسام کی پابندی نہیں ہوگی، اور وہ کسی بھی شوگر مل کو گنا فروخت کرنے یا گڑ بنانے میں آزاد ہوں گے۔

 

گنے کی قیمت مارکیٹ طے کرے گی۔ آٹھ ماہ بند رہنے والی شوگر ملز باہر سے خام مال منگوا کر چینی بنا سکیں گی۔ 

 

حکومت چینی کی برآمد پر کوئی سبسڈی نہیں دے گی اور ملک میں نئی شوگر مل لگانے پر پابندی بھی ختم کر دی جائے گی۔

 

مزید براں، نقصان دہ گنے کی اقسام کی فہرست بوائی سے قبل جاری کی جائے گی اور شوگر ملز کو باہر سے خام مال منگوا کر چینی تیار کر کے برآمد کرنے کی اجازت ہوگی۔