تازہ ترین - 01 اپریل 2026
دماغی رسولی کی 7 اہم علامات جن کے بارے میں جاننا ضروری ہے
تازہ ترین - 01 اپریل 2026
دماغی رسولی جان لیوا ہو سکتی ہے، اس لیے ابتدائی علامات کو پہچاننا ضروری ہے۔
کوئین میری یونیورسٹی آف لندن کے وولفسن انسٹیٹیوٹ آف پاپولیشن ہیلتھ کی محقق لورا اسٹینڈن کے مطابق عام بھول جانا، ذہنی دھند یا سر درد اکثر معمولی اور بے ضرر ہوتا ہے، لیکن کبھی کبھار یہ کسی زیادہ سنگین مسئلے جیسے دماغی رسولی کی طرف اشارہ کر سکتا ہے۔
ابتدائی تشخیص بہت اہم ہے کیونکہ اکثر علامات کو ذہنی دباؤ، تھکن یا معمولی مسائل سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جس سے تشخیص میں تاخیر ہوتی ہے اور علاج پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
یہ ہیں دماغی رسولی کی سات ممکنہ علامات:
- الفاظ تلاش کرنے میں دشواری: مخصوص الفاظ سوچنے، مکمل جملے بنانے یا گفتگو میں دیر کے بغیر شامل ہونے میں مشکل۔
- ذہنی دھند: توجہ مرکوز کرنے، واضح سوچنے یا چیزیں یاد رکھنے میں مسلسل دشواری۔
- سن ہونا یا جھنجھناہٹ: جسم کے مختلف حصوں میں سن ہونے یا جھنجھناہٹ محسوس ہونا، جیسے چہرے، زبان یا منہ کا حصہ۔
- نظر میں تبدیلی: اچانک یا غیر معمولی بصری تبدیلیاں، جیسے دہرا دیکھنا یا سیدھی لکیریں مڑی ہوئی نظر آنا، خاص طور پر دیگر اعصابی علامات کے ساتھ۔
- خراب یا بگڑی ہوئی لکھائی: ہاتھ اور آنکھ کے درمیان ہم آہنگی میں کمی یا اچانک لکھائی کا خراب ہونا۔
- رویے یا مزاج میں تبدیلی: اچانک یا نمایاں چڑچڑاہٹ، حوصلے کی کمی یا شخصیت میں تبدیلی، خاص طور پر دیگر علامات کے ساتھ۔
- سر درد: مسلسل یا شدید سر درد جو ہفتوں تک برقرار رہے اور اکثر روزانہ محسوس ہو۔
لورا اسٹینڈن کا کہنا ہے کہ ان علامات میں سے ایک یا زیادہ ہونا لازمی طور پر دماغی رسولی کی نشاندہی نہیں کرتا، مگر اگر کچھ غیر معمولی محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر سے معائنہ کروانا چاہیے۔
دیکھیں

