خلیجی بندرگاہیں سب کیلئے ہوں گی یا کسی کیلئے نہیں: ایران

news-banner

تازہ ترین - 13 اپریل 2026

ایران نے خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کی بندرگاہوں سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یہ بندرگاہیں یا تو سب کے لیے ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں ہوں گی۔ 

 

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے کمانڈر نے کہا ہے کہ ملک کے قانونی حقوق کا دفاع ہماری ذمے داری ہے اور علاقائی پانیوں میں خودمختاری کا استعمال ایرانی قوم کا فطری حق ہے۔

 

 بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا رہے گا اور دشمن سے منسلک جہازوں کو اس اہم گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ دیگر جہازوں کو ایرانی قوانین کے مطابق گزرنے کی اجازت ہو گی۔ 

 

ایران کا آبنائے ہرمز سے ٹیکس کو جنگی ہرجانے کے حصول کا ذریعہ بنانے کا عندیہ ایرانی افواج کے مطابق دشمن کی جانب سے جاری خطرات کے پیشِ نظر جنگ کے خاتمے کے بعد بھی آبنائے ہرمز پر مستقل کنٹرول کا نظام نافذ کیا جائے گا۔

 

 بیان میں امریکا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرنا غیر قانونی اقدام ہے اور اسے قذاقی کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

 

 ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ اگر بندرگاہوں کی سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوا تو خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔