ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے نیا قانون نافذ

news-banner

کاروبار - 15 اپریل 2026

سٹیٹ بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے نیا قانون نافذ کر دیا۔ 

 

سٹیٹ بینک کے ذرائع کے مطابق پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی لائسنسنگ اور نگرانی کی ذمے دار ہو گی، اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹڈ ادارے لائسنس یافتہ وی اے ایس پیز اکاؤنٹس کھول سکیں گے۔

 

 بینکوں کو وی اے ایس پی کا لائسنس حاصل کر کے اس کی تصدیق کرنا ہوگی، صارفین کے فنڈز کے لیے علیحدہ کلائنٹ منی اکاؤنٹس ہوں گے اور رقوم ملانا ممنوع ہو گا۔ 

 

سٹیٹ بینک کے ذرائع کے مطابق یہ اکاؤنٹس روپے میں ہوں گے اور نقد جمع یا نکاسی کی اجازت نہیں ہوگی، بینک وی اے ایس پیز کی جانچ پڑتال کریں گے اور نگرانی یقینی بنائیں گے۔

 

 مشکوک لین دین رپورٹ ایف ایم یو کو ہوگی اور قوانین پرعمل لازم ہوگا، بینک فنڈز یا صارفین کی رقوم سے ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری نہیں کر سکیں گے۔