تازہ ترین - 15 اپریل 2026
شمالی کوریا کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ، اقوام متحدہ پریشان
دنیا - 15 اپریل 2026
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا کی جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو عالمی سلامتی کے لیے باعث تشویش ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے سیول کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کے یونگ بیون نیوکلیئر ری ایکٹر کی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے جو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی صلاحیت میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔
جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا یورینیم افزودگی کی متعدد تنصیبات چلا رہا ہے جو ایٹمی وارہیڈز بنانے کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ ان میں یونگ بیون کا مرکز بھی شامل ہے جسے ماضی میں مذاکرات کے بعد بند کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم سنہ 2021 میں اسے دوبارہ فعال کر دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شمالی کوریا کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت میں سنجیدہ حد تک اضافہ ہو رہا ہے جس کا تخمینہ درجنوں وارہیڈز تک لگایا جا رہا ہے۔
شمالی کوریا نے سنہ 2006 میں اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا تھا اور اس کے بعد سے وہ اقوام متحدہ کی سخت پابندیوں کی زد میں ہے۔ حکومت واضح کر چکی ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیار ترک نہیں کرے گی جبکہ سنہ 2009 سے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو بھی ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
دیکھیں

