تازہ ترین - 15 اپریل 2026
نایاب ترین نظارہ: ’افراتفری کا دیوتا‘ نامی سیارچہ پاکستان میں کب دیکھا جاسکے گا؟
تازہ ترین - 15 اپریل 2026
ماہرینِ فلکیات نے اعلان کیا ہے کہ ایک نایاب اور غیر معمولی سیارچہ سنہ 2029 میں زمین کے انتہائی قریب سے گزرے گا جسے دنیا کے کئی حصوں میں لوگ بنا ٹیلی اسکوپ بھی دیکھ سکیں گے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق سیارچہ 99942 اپوفِس جس کا نام قدیم مصری دیوتائے افراتفری، تاریکی اور آگ سے منسوب ہے 13 اپریل 2029 کو زمین کے قریب سے بحفاظت گزرے گا یہ سیارچہ زمین سے تقریباً 20 ہزار میل کے فاصلے سے گزرے گا جو چاند کے مقابلے میں 12 گنا زیادہ قریب اور کئی سیٹلائٹس سے بھی کم فاصلے پر ہوگا۔
ماہرین کے مطابق یہ منظر مشرقی نصف کرے میں صاف موسم کی صورت میں ننگی آنکھ سے دیکھا جا سکے گا جبکہ ناسا نے اسے اس جسامت کے کسی بھی سیارچے کا زمین کے قریب ترین گزرنے والے نایاب ترین واقعات میں سے ایک قرار دیا ہے
یاد رہے کہ سنہ 2004 میں دریافت کے وقت اس سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے تاہم اب ناسا نے واضح کیا ہے کہ آئندہ کم از کم 100 برس تک اس کے زمین سے ٹکرانے کا کوئی خطرہ نہیں البتہ زمین کی کشش ثقل اس کے مدار یا رفتار میں معمولی تبدیلی لا سکتی ہے جو کسی خطرے کا باعث نہیں بنے گی۔
خلائی ادارے اس نادر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سیارچے کا تفصیلی مطالعہ بھی کریں گے۔ ناسا نے ایک خلائی جہاز کا رخ اس کی جانب موڑ دیا ہے جبکہ یورپی خلائی ایجنسی بھی اس کے مشاہدے کے لیے اپنا مشن بھیجے گی۔
ماہرین کے مطابق اپوفِس تقریباً 4.6 ارب سال پرانا سیارچہ ہے جو نظامِ شمسی کی ابتدائی تشکیل کے باقی ماندہ مادے پر مشتمل ہے اور کسی سیارے کی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ اس کا اوسط قطر تقریباً 1,115 فٹ جبکہ لمبائی 1,480 فٹ تک ہے۔ یہ سیارچہ 2004 میں کٹ پیک نیشنل آبزرویٹری کے
ماہرین نے دریافت کیا تھا، اور سنہ 2029 کے اس تاریخی گزر کے بعد اسے باضابطہ طور پر زمین کے مدار کو کاٹنے والے ‘اپولو گروپ‘ کے سیارچوں میں شامل کر لیا جائے گا۔
ناسا کے مطابق سیارچہ اپوفِس 13 اپریل 2029 کو زمین کے انتہائی قریب سے گزرے گا اور یہ مشرقی نصف کرہ میں نظر آنے کے قابل ہوگا اور چونکہ پاکستان بھی مشرقی نصف کرہ کا حصہ ہے اس لیے یہاں کے آسمان پر بھی اس سیارچے کو صرف آنکھ سے دیکھنے کا موقع ملے گا
بشرطیکہ موسم صاف ہو اور آسمان میں بادل نہ ہوں اس تاریخی فلکیاتی واقعے کے دوران سیارچہ چاند سے 12 گنا زیادہ قریب گزرے گا جو اس کو ناظرین کے لیے خاصا واضح اور دلچسپ بناتا ہے۔
یہ منظر ان افراد کے لیے خاص طور پر یادگار ہوگا جو شہروں سے قدرے دور اور کم روشنی والی جگہوں پر ہوں گے۔
دیکھیں

