کے پی اسمبلی کے اجلاس میں عمران خان، بشریٰ بی بی، مہنگائی اور افغانستان کی صورتحال پرقراردادیں منظور

news-banner

پاکستان - 22 اپریل 2026

عمران خان اسٹیڈیم میں ہونے والے خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ کے مقدمات، ملاقات پر پابندی، علاج کی سہولیات، افغانستان کی صورت حال اور مہنگائی کیخلاف قراردادیں منظور کرلی گئیں۔

 

 پشاور کے عمران خان اسٹیڈیم میں اسپیکر بابر سواتی کی صدارت میں صوبائی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس تین گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا جبکہ پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد ایوان کی کارروائی دیکھنے آئی تو اسٹیڈیم کے دروازے بند کردیے گئے۔ 

 

بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ کے مق کے پی اسمبلی نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کے مقدمات کے فوری سماعت کی قرارداد اکثریت سے منظور کرلی۔ قرارداد میں لکھا گیا کہ یہ ایوان عدالت عظمی سے مطالبہ کرتا ہے کہ بانی اور اہلیہ کے خلاف دائر تمام مقدمات کی سماعت میرٹ پر شروع کی جائے، سماعت کی تاخیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ 

 

متن میں لکھا گیا کہ مقدمات میں تاخیر بنیادی انصاف کے حصول کے منافی ہے، مقدمات روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے اور فیصلہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ قرارداد میں ملک میں سیاسی استحکام اور قانون کی بالادستی کے لئے بانی پی ٹی آئی کے مقدمات کی فوری سماعت کو بھی ضروری قرار دیا گیا۔ رائے شماری کے دوران پیپلز پارٹی کے اراکین نے قرارداد کی مخالفت کی۔

 

 کے پی اسمبلی نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ سے ملاقات پر عائد پابندی اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف قرارداد اکثریت سے منظور کرلی۔ یہ قرار داد حکومتی رکن افتخار اللہ جان نے پیش کی۔ جس میں مطالبہ کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو ہر قسم کی طبی سہولیات فراہم کی جائیں، دونوں کو قید تنہائی سے نکال کر فیملی سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ رائے شماری کے دوران ایوان نے قرارداد اکثریت سے منظور کی۔

 

 حکومتی رکن اسمبلی طفیل انجم کی جانب سے افغانستان کی صورتحال پر قراداد پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں تاکہ غلط فہمی کا خاتمہ ہو سکے، دونوں ممالک کے مابین تجارت کو جلد بحال کیا جائے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ کشیدگی کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان 2 ارب ڈالر کی تجارت متاثر ہو رہی ہے اس کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔

 

 متن میں لکھا گیا کہ دونوں ممالک کے مابین کشیدگی سے خیبرپختونخوا متاثر ہو رہا ہے، افغانستان سے بھی مطالبہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کرے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں قرارداد کو منظور کر لیا گیا۔

 

 حکومتی رکن اسمبلی ڈاکٹر امجد نے ملک میں بڑھتی مہنگائی کے خلاف قرارداد پیش کی، جس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت پیٹرول کی قیمت پر کنٹرول کرئے میں ناکام ہوچکی ہے جبکہ عالمی منڈی میں 90 ڈالر فی بیرل کم ہونے کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم نہیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں انتہائی کم ہو چکی ہیں۔ غریب ادمی کی کمر مہنگائی سے ٹوٹ چکی ہے، عالمی مارکیٹ کی قیمت کے تناسب سے قیمت کم کی جائے۔ 

 

اپوزیشن رکن احمد کنڈی نے کہا کہ ہم ڈاکٹر امجد علی کی قرارداد کی حمایت کرتے ہیں، اس وقت 1500 ارب روپے کا ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔اس ملک میں پولیٹیکل انجنیرنگ ہوتی تھی اب معاشی انجینئرنگ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں صوبے کا مقدمہ لڑنے آئے ہیں مگر صوبائی حکومت سو رہی ہے، صوبائی حکومت اور وزراء اس مسئلے سے غافل ہیں، خیبرپختونخوا صوبے سے زیادتی ہو رہی ہے مگر صوبائی حکومت اس پر توجہ نہیں دے رہی۔ 

 

اُن کا مزید کہنا تھا کہ مزمل اسلم صاحب اس کو سمجھ سکتے ہیں اس لیے میں لیوی کی بات کر رہا ہوں۔ مشیر خزانہ مزمل اسلم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے پیٹرول پر لیوی 160 روپے پر عوام سے وصول کیے۔ ایوان نے ڈاکٹر امجد علی کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔