اسپیس ایکس پاکستانی نوجوان کی اے آئی کمپنی 60 ارب ڈالر میں خریدنے کیلیے تیار

news-banner

تازہ ترین - 23 اپریل 2026

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا پاکستانی نوجوان صالح آصف اور ان کے دوستوں کی مشترکہ آرٹیفشل انٹیلیجنس (اے آئی) کمپنی کے ساتھ مل کر کام کرنے کا معاہدہ ہوا ہے، جس کے تحت 60 ارب ڈالر میں خریدنے یا مل کر کام کرنے کی صورت میں 10 ارب ڈالر کی ادائیگی کے لیے تیار ہیں۔

 

 اسپیس ایکس کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ اسپیس ایکس اور کرسر اے آئی اب دنیا کا بہترین کوڈنگ اورعلمی کام کرنے والا اے آئی بنانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔

 

 بیان میں کہا گیا کہ کرسر کی اہم پروڈکٹ اور ماہر سافٹ ویئر انجینئرز تک اسپیس ایکس کے 10 لاکھ ایچ 100کے مساوی کلوسس ٹریننگ سپرکمپیوٹر کی رسائی کے لیے اشتراک سے ہمیں دنیا کے سب سے مفید ماڈلز بنانے میں مدد ملے گی۔ 

 

اسپیس ایکس نے بتایا کہ کرسر نے اسپیس ایکس کو رواں سال کے آخر میں کرسر کو 60 ارب ڈالر میں خریدنے یا ہمارے باہمی کام کے عوض 10 ارب ڈالر ادا کرنے کا اختیار بھی دیا ہے۔

 

 غیرملکی میڈیا کے مطابق اے آئی کوڈ جنریٹنگ کمپنی کرسر اس وقت اوپن اے آئی اور اینتھروپک سمیت دنیا کی چند بڑی اے آئی کمپنیوں میں شامل ہے۔

 

 فوربز کے مطابق پاکستانی نوجوان صالح آصف کرسر کے مشترکہ بانی ہیں، جنہوں نے امریکی یونیورسٹی ایم آئی ٹی میں اپنے تین دوستوں کے ساتھ مل کر اس کمپنی کی بنیاد رکھی تھی اور 2.3 ارب ڈالر فنڈنگ کے بعد نومبر 2025 میں کرسر کی قدر 29.3 ارب ڈالر ہوگئی تھی۔

 

 رپورٹ میں بتایا گیا کہ کرسر کا دعویٰ ہے کہ سالانہ ایک ارب ڈالر سے زائد منافع ہے، جس کے باعث انتہائی تیزی سے ترقی کرنے والی اے آئی کمپنیوں میں شامل ہے اور اس وقت نویڈیا، ایڈوبے، اوبر اور شوپی فائی جیسی 50 ہزار کمپنیوں میں لاکھوں سوفٹ ویئر ڈیولپرز کرسر کے کوڈ کے حصے تیار کرنے اور ردوبدل کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

 

 فوربز کے مطابق کراچی سے تعلق رکھنے والے صالح آصف نے 2016 سے 2018 تک انٹرنیشنل میتھ اولمپیارڈ میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی اور2023 میں کالج میں اے آئی سرچ انجن کمپنی کی بنیاد رکھی تھی۔