بھارت سے آلودہ ہواؤں کا داخلہ — پنجاب میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

news-banner

تازہ ترین - 27 اکتوبر 2025

بھارت سے آنے والی آلودہ ہواؤں کے باعث پنجاب بھر میں فضائی آلودگی تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق لاہور اور گردونواح کی فضا غیر صحت بخش زمرے میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ صوبائی دارالحکومت ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست آ گیا ہے۔

 

ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کے مطابق لاہور کا فضائی معیار 312 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بھارتی دارالحکومت دہلی 239 کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ دیگر شہروں میں بھی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی — فیصل آباد 540، گوجرانوالہ 371، ملتان 364 اور بہاولپور 250 پر ریکارڈ ہوئے۔

 

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال شمال مشرقی سمت سے چلنے والی کم رفتار ہواؤں کے باعث پیدا ہوئی ہے، جو بھارتی پنجاب اور ہریانہ کے زرعی علاقوں سے گزر کر آ رہی ہیں، جہاں حالیہ دنوں میں فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ 

 

ان علاقوں سے اٹھنے والے PM2.5 اور PM10 کے ذرات سرحد پار منتقل ہو کر پنجاب کی فضا کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔

 

کم رفتار ہوائیں (4 تا 9 کلومیٹر فی گھنٹہ) آلودہ ذرات کو زمین کے قریب جمع رکھتی ہیں، جس کے باعث لاہور میں سانس اور آنکھوں کی بیماریوں کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دن کے اوقات میں درجہ حرارت بڑھنے سے فضائی معیار میں وقتی بہتری آ سکتی ہے۔

 

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر انسدادِ سموگ آپریشن تیز کر دیا گیا ہے۔

 

 لاہور، شیخوپورہ، قصور اور گوجرانوالہ میں اینٹی سموگ اسکواڈز متحرک کر دیے گئے ہیں، جبکہ محکمہ زراعت کو ہدایت دی گئی ہے کہ فصلوں کی باقیات جلانے کے بجائے ماحول دوست مشینری جیسے سپر سیڈرز کے استعمال کو فروغ دیا جائے۔

 

ای پی اے فورس نے صنعتی علاقوں اور بھٹہ جات پر سخت نگرانی شروع کر دی ہے، خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔


سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شام 8 بجے کے بعد غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں، بچوں اور بزرگوں کو فضا میں موجود زہریلے ذرات سے محفوظ رکھیں۔

 

پنجاب حکومت نے اسکولوں کے اوقات میں بھی تبدیلی کر دی ہے — آج سے تعلیمی ادارے صبح 8 بج کر 45 منٹ پر کھلا کریں گے، اور تمام آؤٹ ڈور سرگرمیوں پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔