تازہ ترین - 14 دسمبر 2025
سردی میں دل کے مریضوں کے لیے ہارٹ اٹیک سے بچاؤ کے اہم اقدامات
تازہ ترین - 29 نومبر 2025
ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماری، ذیابیطس یا خون کی گردش کے مسائل والے افراد کے لیے سرد موسم میں اپنی حفاظت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق سردی کے اثر سے دل کو خون پہنچانے والی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس سے دل پر دباؤ بڑھتا ہے اور ہلکی سردی بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے نمائندے انور خان کے مطابق کراچی کے قومی ادارہ امراض قلب ’این آئی سی وی ڈی‘ میں سرد موسم کے آغاز کے ساتھ ہی دل کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔
ایمرجنسی وارڈ میں روزانہ 800 سے 1,000 مریض آ رہے ہیں، جن میں زیادہ تر کی عمریں 35 سے 40 سال کے درمیان ہیں۔
این آئی سی وی ڈی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کارڈیالوجی ڈاکٹر بشیر احمد سولنگی نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام "باخبر سویرا" میں بتایا کہ سردیوں میں جسم حرارت برقرار رکھنے کے لیے زیادہ محنت کرتا ہے، جس سے ہائی بلڈ پریشر اور دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سردی میں جسم میں پانی کی کمی سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے، جس سے خون کے لوتھڑے بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور دل کی شریانیں بند ہو سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ فلو اور نمونیا بھی دل کے مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ صبح سویرے سرد پانی پینا بھی خطرناک ہے، کیونکہ ہارٹ اٹیک کے زیادہ کیسز اسی وقت دیکھے گئے ہیں۔
دل کے دورے سے بچاؤ کے لیے ڈاکٹر بشیر احمد سولنگی نے چند اہم تجاویز دیں:
- گرم کپڑے پہنیں، خاص طور پر سینہ اور سر ڈھانپیں۔
- صبح جلدی سردی میں بھاگنے یا ورزش سے گریز کریں۔
- پانی مناسب مقدار میں پیتے رہیں۔
- بلڈ پریشر اور شوگر کنٹرول میں رکھیں۔
- اگر سینے میں درد، سانس پھولنا یا بے چینی محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
دیکھیں

