تازہ ترین - 11 مارچ 2026
سائنسدانوں نے زمین سے ٹکرانے والے بین النجمی اجسام کے زیادہ خطرناک خطے کی نشاندہی کر دی
تازہ ترین - 29 نومبر 2025
سائنسدانوں نے زمین پر ایسے علاقوں کی نشاندہی کی ہے جہاں ہمارے نظام شمسی سے باہر سے آنے والے بین النجمی اجسام (ISOs) کے ٹکرانے کا امکان سب سے زیادہ ہو سکتا ہے۔
رواں سال یکم جولائی کو دریافت ہونے والا پراسرار بین النجمی دُم دار ستارہ 3I/آٹلس پہلے ہی سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
اس سے پہلے بھی دو بین النجمی اجسام ’اومواموا‘ (2017) اور ’بوریسوف‘ (2019) ہمارے نظام شمسی کا دورہ کر چکے ہیں۔
اگرچہ ناسا نے تصدیق کی ہے کہ 3I/آٹلس زمین کے لیے خطرہ نہیں، لیکن مستقبل میں ممکنہ ٹکراؤ کے لیے سائنسدانوں نے حساس خطوں کی نشاندہی کر دی ہے۔
تحقیق کے مطابق خط استوا کے قریب کے علاقے بین النجمی اجسام کے تصادم کے لیے سب سے زیادہ حساس ہیں، تاہم شمالی نصف کرہ میں بھی خطرہ معمولی حد تک موجود ہے، جہاں دنیا کی تقریباً 90 فیصد آبادی آباد ہے۔
مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ڈیریل سیلگمین کی قیادت میں کی گئی تحقیق میں کمپیوٹر سمیولیشنز کے ذریعے ISOs کی ممکنہ حرکات، زاویاتی سمتیں اور رفتار ماڈل کی گئی ہیں۔
تحقیق میں ایم ٹائپ یا ریڈ ڈوارف ستاروں کے حرکیاتی نمونوں کو بنیاد بنایا گیا، کیونکہ یہ ہماری کہکشاں میں سب سے زیادہ تعداد میں موجود ستارے ہیں۔
مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بین النجمی اجسام زیادہ تر دو سمتوں سے آنے کا امکان رکھتے ہیں: سولر ایپکس (سورج کی کہکشاں میں حرکت کی سمت) اور کہکشاں کے پلین کا وہ خط جہاں سب سے زیادہ ستارے موجود ہیں۔
سب سے زیادہ رفتار والے ممکنہ تصادم بہار میں ہو سکتے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر تصادم کا امکان سردیوں میں زیادہ ہوتا ہے۔
دیکھیں

