تازہ ترین - 09 دسمبر 2025
23 نومبر کے ضمنی انتخابات: بہتر انتظامات کے باوجود کم ووٹر ٹرن آؤٹ اور قواعد کی خلاف ورزیاں تشویش کا باعث
پاکستان - 29 نومبر 2025
23 نومبر کو قومی اور پنجاب اسمبلی کے 13 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات مجموعی طور پر بہتر انداز میں منعقد ہوئے، تاہم انتخابی مہم کے ضابطوں کی خلاف ورزی، نتائج کی شفافیت میں خامیاں اور تشویشناک حد تک کم ووٹر ٹرن آؤٹ نے انتخابی عمل پر سوالات چھوڑ دیے ہیں۔
فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ انتخابی قواعد خصوصاً انتخابی مہم کے ضوابط پر کمزور عمل درآمد مستقل مسئلہ بن رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 238 (64%) پولنگ اسٹیشنز کے قریب 465 سیاسی جماعتوں کے کیمپس قائم تھے، اور 184 (49%) مقامات پر ووٹرز کو لے جانے کی سہولت موجود تھی۔ 216 (91%) پولنگ اسٹیشنز کے باہر پارٹی کیمپس ووٹر سلپس جاری کرتے رہے، جبکہ 16 (4%) اسٹیشنز پر انتخابی مواد پولنگ کے اندر پایا گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بنیادی سہولیات موجود ہونے کے باوجود خواتین، بزرگ شہری، معذور اور ٹرانس جینڈر ووٹرز کے لیے انتظامات میں عدم تسلسل دیکھا گیا۔ 89 فیصد پریزائیڈنگ افسران، 79 فیصد اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران اور 77 فیصد پولنگ افسران نے تربیت حاصل کرنے کی تصدیق کی۔
بیلٹ کی سیکیورٹی اور ووٹ کی خفیہ پوزیشن مجموعی طور پر برقرار رہی۔ مشاہدہ کاروں نے 366 بوتھ کا معائنہ کیا، جن میں سے 340 بوتھ پر پولنگ منظم اور پُرامن رہی۔ تاہم، 92 (25%) بوتھ پر ووٹر کا نام بلند آواز میں پڑھا گیا، 10 (3%) بوتھ پر شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہونے پر ووٹر کو واپس بھیج دیا گیا، اور کچھ بوتھ پر بیلٹ پیپر پہلے سے دستخط شدہ یا مہر شدہ پائے گئے۔
ٹرن آؤٹ مردوں اور خواتین دونوں میں 23 فیصد کی کمی کے ساتھ کم رہا، اور صرف ایک حلقے میں 50 فیصد سے زائد ووٹر حصہ لے سکے۔ تاہم، 97 فیصد پولنگ ایجنٹس نے پولنگ کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا، اور گنتی کے بعد 137 ایجنٹس نے بھی نتائج کو تسلی بخش قرار دیا۔
فافن نے 122 تربیت یافتہ مبصرین کو 373 پولنگ اسٹیشنز اور 1,088 پولنگ بوتھز پر تعینات کیا تاکہ پولنگ عمل، پولنگ ایجنٹس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی نگرانی کی جا سکے۔
دیکھیں

