ٹرمپ کا اعلان: بائیڈن دور کے تمام ایگزیکٹو احکامات منسوخ، قانونی اور بین الاقوامی اثرات متوقع

news-banner

دنیا - 29 نومبر 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے پیشرو جو بائیڈن کے دور میں آٹوپین سے دستخط شدہ تمام ایگزیکٹو احکامات، اعلامیے اور ہدایات منسوخ کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ بائیڈن نے خود دستخط نہیں کیے اور یہ اقدام غیر قانونی تھا۔

 

ماہرین قانون کے مطابق، ایگزیکٹو احکامات کی قانونی حیثیت کے لیے دستخط کا طریقہ نہیں بلکہ منظوری اہمیت رکھتی ہے، اس لیے ٹرمپ کے اس اقدام پر عدالتوں میں چیلنجز متوقع ہیں۔ اس فیصلے سے بائیڈن دور کی کئی پالیسیز، بشمول ماحولیاتی، تعلیمی اور امیگریشن قوانین، غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہیں۔

 

ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ اگر بائیڈن کی منظوری کی تصدیق نہ ہوئی تو ٹرمپ کے احکامات کی منسوخی عدالت میں چیلنج کا سامنا کر سکتی ہے۔

 

 اس سیاسی اقدام کے ذریعے ٹرمپ پچھلی انتظامیہ کو غیر معتبر بنانے اور اوول آفس میں اپنی طاقت مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس اسے قانونی بحران اور ری پبلکن اصلاحی اقدام قرار دے رہے ہیں۔

 

ٹرمپ کے اس اقدام کے بین الاقوامی اثرات بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ بائیڈن دور کے معاہدے اور وعدے غیر یقینی ہو گئے ہیں، جن میں ماحولیاتی تعاون، پناہ گزینوں کی آمد، طلبہ ویزے، تجارتی سہولیات اور سیکیورٹی تعاون شامل ہیں۔

 

 غیر ملکی حکومتیں دوطرفہ معاہدوں کی وضاحت طلب کر سکتی ہیں، اور واشنگٹن میں اہلکار خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس اقدام سے طویل المدتی پالیسی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان جیسے ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔