ہانگ کانگ کی دہائیوں کی ہلاکت خیز آتشزدگی,151 اموات کے بعد آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم

news-banner

دنیا - 02 دسمبر 2025

ہانگ کانگ کے سربراہ جان لی نے اعلان کیا ہے کہ شہر کی تاریخ کی بدترین آتشزدگی میں 151 افراد کی ہلاکت اور تقریباً 80 کے زخمی ہونے کے بعد حکومت ایک جج کی سربراہی میں آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم کرے گی۔

 

 یہ آگ وانگ فوک کورٹ ہاؤسنگ کمپلیکس کی سات رہائشی عمارتوں میں لگی، جہاں 4,600 سے زائد افراد رہتے تھے۔

 

جان لی کا کہنا تھا کہ اس سانحے کی سچائی سامنے لانا، ذمہ داروں کو سزا دلانا اور اس طرح کے واقعات کو دوبارہ ہونے سے روکنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

 

 انہوں نے اعتراف کیا کہ مختلف مراحل میں سنگین ناکامیاں سامنے آئی ہیں اور اب عمارتوں کی مرمت و بحالی کے نظام میں مکمل اصلاحات کی جائیں گی۔

 

آگ کا آغاز بدھ کی دوپہر اس اسکیفولڈنگ سے ہوا جو مرمت کے کام کے لیے لگائی گئی تھی۔ حکام کے مطابق تیز ہوا، ناقص میٹریل، اور حفاظتی جالیوں میں غیر معیاری پلاسٹک کے استعمال نے آگ کے پھیلاؤ کو تیز کیا۔

 

 مزید انکشاف ہوا کہ ٹھیکیداروں نے غیر معیاری جالیوں کو منظور شدہ جالیوں کے ساتھ ملا کر معائنہ کاروں کو دھوکا دینے کی کوشش کی۔ عمارتوں کے فائر الارم بھی ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہے تھے۔

 

تحقیقات کے دوران سات میں سے پانچ ٹاورز کی مکمل جانچ کی جا چکی ہے، جہاں سیڑھیوں اور چھتوں پر کئی افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ تقریباً 30 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔

 

پولیس اب تک 13 افراد کو مبینہ قتل خطا (manslaughter) کے الزام میں گرفتار کر چکی ہے، جبکہ انسداد بدعنوانی کمیشن نے تعمیراتی میٹریل اور نگرانی میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں 12 مزید افراد کو حراست میں لیا ہے۔

 

مقامی میڈیا کے مطابق کچھ شہریوں کو، جو حکومت سے احتساب اور تعمیراتی نگرانی میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے، ’’اشتعال انگیز ارادے‘‘ کے الزام پر بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک 24 سالہ طالب علم کی گرفتاری نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔

 

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سانحے کی شفاف تحقیقات کرے اور ان شہریوں کو نشانہ نہ بنائے جو جائز سوالات اٹھا رہے ہیں۔

 

دوسری جانب چین کے نیشنل سیکیورٹی آفس نے خبردار کیا کہ سانحے کو بہانہ بنا کر شہر میں 2019 جیسی ’’بدامنی‘‘ پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔