تازہ ترین - 02 مارچ 2026
غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی میں خیبرپختونخوا کی سست روی تشویشناک، وفاقی پالیسی پر عملدرآمد میں سنگین تاخیر
دنیا - 03 دسمبر 2025
پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کے لیے وفاقی حکومت نے Illegal Foreigner Repatriation Plan (IFRP) کا آغاز کیا، جسے قومی سلامتی، ریاستی وسائل کے تحفظ اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک اہم اور جامع حکمتِ عملی قرار دیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کے تحت وفاق نے مرحلہ وار افغان مہاجر کیمپوں کی ڈی نوٹیفکیشن کا عمل مکمل کیا، اور فیز 3 کے بعد 54 کیمپوں کو باضابطہ طور پر غیر فعال قرار دیا گیا—جن میں 43 خیبرپختونخوا، 10 بلوچستان اور ایک پنجاب میں واقع تھے۔ یہ عمل 25 ستمبر، 13 اکتوبر اور 15 اکتوبر 2025ء کو مکمل ہوا۔
پنجاب اور بلوچستان نے وفاقی پلان پر تیزی سے عمل کیا۔ پنجاب نے میانوالی کا واحد افغان کیمپ مکمل خالی کرا لیا، جبکہ بلوچستان میں 88 ہزار سے زائد افغان باشندوں کا ریکارڈ سامنے آیا اور ان کی واپسی جاری ہے، جو دسمبر تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔
اس کے برعکس، خیبرپختونخوا کی کارکردگی نہایت مایوس کن رہی۔ صوبے میں موجود 43 ڈی نوٹیفائیڈ کیمپوں میں سے صرف دو مکمل طور پر کلیئر کیے گئے، جبکہ باقی کیمپ بدستور فعال ہیں۔
صوبائی حکومت ان کیمپوں کو بجلی، پانی، صحت اور دیگر سہولیات بھی فراہم کر رہی ہے، جو ڈی نوٹیفکیشن کے باوجود پالیسی پر عملدرآمد میں صوبائی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف خیبرپختونخوا کے محدود وسائل پر بوجھ بڑھا رہی ہے، بلکہ صوبے میں قانون کی کمزور گرفت اور دہشت گردی میں افغان باشندوں کے ملوث ہونے کے شواہد مزید تشویش پیدا کر رہے ہیں۔
وفاقی ہدایات کے باوجود آئی ایف آر پی پر خیبرپختونخوا کی پیش رفت ناکافی ہے، اور ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت فوری، شفاف اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنائے۔
دیکھیں

