امریکی ایلچی کی یوکرین سے اہم ملاقات، ماسکو میں طویل مذاکرات کے بعد امن کی کوششیں تیز

news-banner

دنیا - 04 دسمبر 2025

وائٹ ہاؤس کے مطابق، امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف جمعرات کے روز میامی میں یوکرین کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ رسٹم عمروف سے ملاقات کریں گے۔

 

 یہ ملاقات اس وقت سامنے آئی ہے جب وٹکوف نے منگل کے دن ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ تقریباً پانچ گھنٹے طویل مذاکرات کیے، جنہیں کریملن نے یوکرین جنگ ختم کرنے کے معاملے پر “کسی سمجھوتے کے بغیر” قرار دیا۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ بات چیت  جس میں ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی شریک تھے — "کافی بہتر" رہی، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں وقت لگے گا کیونکہ “معاملہ دو طرفہ رضامندی کا ہے۔

 

یوکرین کے وزیر خارجہ اندری سائبھیا نے روس پر زور دیا کہ وہ “خونریزی کا سلسلہ روکے” اور پیوٹن پر الزام لگایا کہ وہ “دنیا کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔

 

جب ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا وٹکوف اور کشنر کو پیوٹن کی جانب سے جنگ ختم کرنے کا حقیقی ارادہ محسوس ہوا، تو ٹرمپ نے جواب دیا: “ان کا تاثر یہی تھا کہ پیوٹن جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں۔

 

اسی روز صدر زیلینسکی نے کہا کہ امریکی اور یوکرینی مذاکرات کاروں کے درمیان ملاقات “آئندہ چند دنوں میں” ہوگی۔

 

 انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ دنیا کو اس وقت “جنگ ختم ہونے کا حقیقی موقع” محسوس ہو رہا ہے، لیکن انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات کو “روس پر دباؤ کے ساتھ” آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

 

ماسکو میں ہونے والی امریکا–روس بات چیت اُس پس منظر میں ہوئی جب یورپی اتحادیوں نے خدشات ظاہر کیے کہ امن معاہدے کے کچھ مسودے روس کے حق میں زیادہ جھکے ہوئے ہیں۔

 

پیوٹن کے مشیر یوری اوشاکوف نے کہا کہ امریکا کی چند تجاویز قابلِ غور ہیں، تاہم کچھ نکات پر روس کے تحفظات برقرار ہیں۔ ان کے مطابق دو بنیادی اختلافات ابھی بھی موجود ہیں:

 

  1. وہ یوکرینی علاقے جن پر روس نے قبضہ کیا ہے
  2.  
  3. یوکرین کے مستقبل کے سیکیورٹی گارنٹیز
  4.  

یوکرین اور یورپی ممالک کا ماننا ہے کہ مستقبل میں روسی جارحیت روکنے کا بہترین طریقہ یوکرین کی نیٹو میں شمولیت ہے، جس کی روس سخت مخالفت کرتا ہے، اور ٹرمپ بھی اس کو قبول کرنے کے خواہاں نہیں۔

 

کریملن کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگی کامیابیوں نے روس کی مذاکراتی پوزیشن اور مضبوط کر دی ہے۔ روسی افواج مشرقی یوکرین میں بتدریج پیش قدمی کر رہی ہیں اور گزشتہ ماہ تقریباً 701 مربع کلومیٹر علاقہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا، جس کے بعد روس اب یوکرین کے 19.3 فیصد حصے پر قابض ہے۔

 

روس کا کہنا ہے کہ صدر پیوٹن امریکی ایلچیوں سے “جتنی بار ضرورت پڑے” ملاقات کے لیے تیار ہیں، لیکن دوسری جانب یورپ کے ساتھ روسی تعلقات مزید خراب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

 

 پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ یورپ امریکا–روس رابطوں میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے، اور انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ یورپ کے ساتھ لڑائی نہیں چاہتے، لیکن وہ “جنگ کے لیے تیار” ہیں۔

 

اسی دوران یورپی یونین نے فیصلہ کیا ہے کہ 2027 تک مکمل طور پر روسی گیس پر انحصار ختم کر دیا جائے۔ 

 

اس کے علاوہ یورپی کمیشن نے یوکرین کی فوجی اور بنیادی ضروریات کے لیے 90 بلین یورو فراہم کرنے کی نئی تجویز بھی پیش کی ہے، جسے یوکرین نے خوش آئند قرار دیا ہے۔