تازہ ترین - 02 مارچ 2026
امریکا کا ایران سے منسلک سائبر حملہ گروہوں کی معلومات فراہم کرنے پر 1 کروڑ ڈالر انعام کا اعلان
دنیا - 04 دسمبر 2025
امریکا نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی سرپرستی میں امریکی اہم تنصیبات پر کیے جانے والے سائبر حملوں میں ملوث افراد یا گروہوں کی معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 1 کروڑ ڈالر (10 ملین) تک کا انعام رکھا گیا ہے۔ یہ انعام امریکی محکمۂ خارجہ کے "ریوارڈز فار جسٹس" پروگرام کے تحت پیش کیا گیا ہے۔
یہ انعام ایسے کسی شخص یا گروہ کی نشاندہی پر دیا جائے گا جو کسی غیر ملکی حکومت کے کہنے پر امریکی اہم اداروں کے خلاف بدنیتی پر مبنی سائبر کارروائیوں میں ملوث ہو اور کمپیوٹر فراڈ اینڈ ابیوز ایکٹ کی خلاف ورزی کرے۔
امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے مرکز میں ’شہید شُشتَری‘ نامی نیٹ ورک ہے، جو ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور سائبر الیکٹرانک کمانڈ (IRGC-CEC) کے ماتحت کام کرتا ہے۔
یہ گروہ مختلف ناموں کے تحت فعال رہا ہے جن میں آریا سپہر آیندہ سازان (ASA)، آیندہ سازان سپہر آریا (ASSA)، امنت پاسارگاد، ایلیانت گستَر اور نیٹ پیگرد سماوات کمپنی شامل ہیں۔
بیان کے مطابق اس نیٹ ورک نے مربوط سائبر حملوں، ڈیجیٹل مہمات اور غلط معلومات کے ذریعے امریکی سرکاری اداروں اور نجی کمپنیوں کو مالی نقصان پہنچایا اور ان کے نظام میں خلل ڈالا۔
ان کے نشانے میڈیا، شپنگ، توانائی، مالیات، سفر اور ٹیلی کمیونی کیشن جیسے اہم شعبے رہے، جب کہ کارروائیاں امریکا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ تک پھیلی ہوئی تھیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس گروہ کی قیادت محمد باقر شیرینکار کر رہے ہیں، جبکہ فاطمہ صدیقیان کاشی طویل عرصے سے اس نیٹ ورک سے وابستہ ہیں اور منصوبہ بندی و آپریشنز میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ دونوں افراد قریبی تعلق رکھتے ہیں اور مشترکہ طور پر سائبر کارروائیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔
شہید شُشتَری گروہ 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران بھی ایک بڑی آن لائن مہم میں شامل رہا، جس میں فالس فلیگ آپریشنز اور غلط معلومات پھیلانے کی کوششیں شامل تھیں۔ اس سے پہلے بھی یہ گروہ عوامی رائے کو متاثر کرنے اور نظام میں مداخلت کے متعدد واقعات میں ملوث رہا ہے۔
نومبر 2021 میں امریکی محکمۂ خزانہ نے اس گروہ کو، جو اس وقت "امنّت" (Emennet) کے نام سے کام کر رہا تھا، اس کے 6 ملازمین سمیت ایگزیکٹو آرڈر 13848 کے تحت بلیک لسٹ کیا تھا۔
اس دوران ریوارڈز فار جسٹس پروگرام نے اس مداخلت میں شامل دو سائبر عناصر، سید محمد حسین موسیٰ کاظمی اور سجاد کاشیان کی بھی نشاندہی کی تھی۔
دیکھیں

