تازہ ترین - 02 مارچ 2026
کینیا کی پارلیمنٹ کا برطانوی فوجیوں پر دہائیوں سے جنسی تشدد، قتل اور ماحولیاتی تباہی کے الزامات
دنیا - 04 دسمبر 2025
کینیا کی پارلیمنٹ نے برطانوی فوجیوں پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جن میں دہائیوں تک جنسی زیادتی، قتل، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور تربیتی مشقوں کے دوران ماحولیاتی تباہی شامل ہیں۔
یہ الزامات ایک مفصل رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جو لائکیپیا اور سمبورو کاؤنٹیز کی متاثرہ کمیونٹیز کے بیانات اور شکایات پر مبنی ہے۔
رپورٹ کے مطابق برٹش آرمے ٹریننگ یونٹ اِن کینیا (BATUK) کے فوجیوں پر حملوں، اموات اور بدسلوکی کے متعدد واقعات میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
پارلیمانی کمیٹی کا کہنا ہے کہ برطانوی فوجیوں نے تحقیقات میں تعاون سے انکار کر کے جوابدہی سے بچنے کی کوشش کی۔
کینیا میں برطانوی ہائی کمیشن نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان کی پیش کردہ معلومات رپورٹ میں شامل نہیں کی گئیں، تاہم انہوں نے کہا کہ اگر نئے شواہد فراہم کیے جائیں تو وہ مکمل تحقیقات کے لیے تیار ہیں۔
کمیٹی نے دو سالہ تحقیقات کے بعد 94 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کی، جس میں BATUK پر اخلاقی خلاف ورزیوں، انسانی حقوق کی پامالی، ماحولیاتی غفلت اور لیبر سے متعلق مسائل کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
رپورٹ میں 2012 میں اگنیس وانجِرو کے قتل کا ذکر بھی شامل ہے، جن کی لاش ایک ہوٹل کے سیپٹک ٹینک سے ملی تھی۔
کمیٹی کے مطابق اس کیس میں انصاف کی فراہمی سست روی اور مبینہ مداخلت کی وجہ سے متاثر ہوئی۔ ایک سابق برطانوی فوجی، جو اس مقدمے میں مطلوب تھا، حال ہی میں برطانیہ میں گرفتار ہوا ہے اور اسے کینیا بدر کیے جانے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں 2012 میں چرواہے تِلام لیرِش کے قتل کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سمبورو اور ماسائی خواتین پر جنسی تشدد کے وسیع پیمانے پر واقعات سامنے آئے، جن میں 1997 کا وہ المناک واقعہ بھی شامل ہے جس میں 30 خواتین کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
مقامی لوگوں نے فوجیوں کی جانب سے عوامی مقامات پر نازیبا حرکات، بدتمیزی، اور مقامی خواتین کے ساتھ تعلقات قائم کر کے بچوں کو چھوڑ جانے کی شکایات بھی کیں، جس سے کئی خواتین معاشی مشکلات اور سماجی بدنامی کا شکار ہوئیں۔
رپورٹ میں ماحولیاتی مسائل جیسے کہ زہریلی فضا، اسقاط حمل، مویشیوں کی ہلاکت، اور دھماکہ خیز مواد سے ہونے والی اموات اور معذوریوں کا بھی ذکر ہے۔
کمیٹی نے کہا کہ BATUK نے بارہا طلب کیے جانے کے باوجود پیش ہونے سے انکار کیا اور سفارتی استثنیٰ کا سہارا لیا۔
پارلیمانی پینل نے موجودہ دفاعی معاہدے کو "سنگین خامیوں" کا حامل قرار دیتے ہوئے اس میں ترمیم، سخت کوڈ آف کنڈکٹ، ماحولیاتی ذمہ داریاں اور مضبوط نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔
دیکھیں

