تازہ ترین - 02 مارچ 2026
برطانیہ کے سخت ویزہ قوانین سائنس کا مستقبل خطرے میں ڈال رہے ہیں، سر پال نرس کا انتباہ
دنیا - 05 دسمبر 2025
برطانیہ کے ممتاز سائنس دان اور نوبیل انعام یافتہ پروفیسر سر پال نرس نے حکومت کے ویزہ نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ ’’خود اپنے پاؤں پر کلہاڑا مار رہا ہے‘‘ کیونکہ مہنگے ویزہ اخراجات عالمی سائنس دانوں کو ملک آنے سے روک رہے ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو میں سر پال کا کہنا تھا کہ ویزہ فیسوں اور مالی تقاضوں کے باعث نوجوان محققین برطانیہ کا رخ کرنے کے بجائے اُن ممالک کا انتخاب کر رہے ہیں جہاں انہیں خوش آمدید کہا جاتا ہے۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ زیادہ ویزہ فیس این ایچ ایس کے اخراجات پورے کرنے اور امیگریشن بارے عوامی خدشات کو مدنظر رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
تاہم سر پال نرس کا کہنا ہے کہ موجودہ پالیسیاں ملک کے سائنسی مستقبل کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ‘‘مہنگے ویزے اُن لوگوں کے لیے رکاوٹ ہیں جو حقیقت میں ملکی معیشت کو آگے بڑھا سکتے ہیں، یہ بالکل غیر منطقی ہے۔’’
رائل سوسائٹی کے نئے صدر کی حیثیت سے سر پال نے خبردار کیا کہ چین اور سنگاپور سمیت کئی ممالک عالمی سائنس دانوں کو متحرک انداز میں اپنی طرف بلا رہے ہیں جبکہ برطانیہ الٹا رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔
انہوں نے برطانیہ کے سائنسی ڈھانچے کو ’’کمزور‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ ویزہ اخراجات، کم تحقیقاتی فنڈنگ اور سخت امیگریشن قوانین منفی تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
سر پال نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اُس نظام پر نظرِ ثانی کرے جس کے تحت سائنس دانوں کو ہر سال این ایچ ایس سرچارج ادا کرنا پڑتا ہے اور ملک آنے سے پہلے اپنے اکاؤنٹ میں ہزاروں پاؤنڈز موجود ہونے کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ صحت surcharge این ایچ ایس کی مالی ضروریات کے لیے ہے اور مالی ثبوت اس لیے مانگا جاتا ہے تاکہ غیر ملکی افراد سرکاری فنڈز پر بوجھ نہ بنیں۔
سینٹر فار پالیسی اسٹڈیز کے ماہر کارل ولیمز نے تسلیم کیا کہ سائنس اور سوشل سائنس کے شعبوں میں جاری ہونے والے ویزوں کی تعداد بہت کم آخری سہ ماہی میں صرف 323 ہے، اس لیے اگر تعداد دگنی بھی ہو جائے تو مجموعی امیگریشن پر نمایاں اثر نہیں پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسا مؤثر نظام موجود نہیں جو سائنس دانوں کو ترجیح دینے کے ساتھ مجموعی امیگریشن کو محدود رکھ سکے۔
دیکھیں

