تازہ ترین - 11 مارچ 2026
ریاست سب سے مقدم ہے، ایک شخص نیشنل سکیورٹی تھریٹ بن چکا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
پاکستان - 05 دسمبر 2025
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ریاستِ پاکستان ہر چیز سے بالاتر ہے، مگر ایک شخص کی خواہشات اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ اس کا مؤقف بن گیا ہے: "میں نہیں تو کچھ نہیں"۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹر کے قیام پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس ہیڈکوارٹر کی طویل عرصے سے ضرورت تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس بریفنگ کا مقصد ایک اندرونی قومی سلامتی کے خطرے کی نشاندہی ہے۔
ان کے مطابق اب سیاست ختم ہوچکی ہے اور یہ شخص بیرونی عناصر کے ساتھ مل کر نیشنل سکیورٹی رسک بن چکا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کسی سیاسی سوچ کی عکاس نہیں۔
اگر کوئی شخص اپنی سیاست کے تحت فوج پر حملہ کرے گا تو فوج ضرور جواب دے گی۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کا احترام کرتے ہیں لیکن کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ فوج اور عوام کے بیچ فاصلے پیدا کرے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ فوج کے افسران اور جوان زیادہ تر مڈل اور لوئر مڈل کلاس سے آتے ہیں، اس لیے فوج یا اس کی لیڈرشپ پر حملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
تعمیری تنقید کی گنجائش موجود ہے، لیکن فوج کے خلاف عوام کو اکسانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کچھ سیاسی شخصیات ایک مجرم شخص سے ملاقات کرتی ہیں جو مسلسل ریاست اور فوج کے خلاف بیانیہ پھیلا رہا ہے، کبھی ترسیلات زر روکنے کا کہتا ہے، کبھی فوجی قیادت کو نشانہ بنانے کا۔
اسی بیانیے کو بھارتی میڈیا، ٹرول نیٹ ورکس، افغان سوشل میڈیا اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز بھی اٹھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی نوٹیفکیشن پر بھی منظم پروپیگنڈا اور جھوٹ پھیلایا گیا، جبکہ یہ آزادی اظہار رائے کا معاملہ نہیں بلکہ جھوٹ اور انتشار پھیلانے کی کوشش ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ گزشتہ روز پھر بیانیہ دیا گیا کہ خارجی دہشتگردوں سے بات کی جائے اور آپریشن نہ کیے جائیں، حالانکہ یہی خارجی ہمارے سپاہیوں اور بچوں کو شہید کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر بھارت حملہ کرتا تو یہی شخص کشکول لے کر مذاکرات کا کہتا، جبکہ کبھی کہتا تھا کہ خارجیوں کا دفتر پشاور میں کھول دیں۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے حملے بھی اسی ذہنیت کا نتیجہ تھے۔
انہوں نے اس رویے کو "ٹیرر کرائم نیکسس" قرار دیا جس میں اسمگلنگ، نان کسٹم پیڈ گاڑیاں، منشیات اور دیگر جرائم شامل ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ کسی کی ذات یا سیاست کو ریاست سے بڑا سمجھنے کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔
دیکھیں

