پیوٹن اور مودی کا تجارت، توانائی اور دفاعی تعاون کے فروغ پر اتفاق,مغربی دباؤ کو نظرانداز کرنے کا اعلان

news-banner

دنیا - 05 دسمبر 2025

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے دونوں ممالک کے درمیان توانائی اور دفاع سے آگے بڑھ کر تجارت کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے، حالانکہ مغربی ممالک نئی دہلی پر ماسکو کے ساتھ طویل عرصے سے قائم قریبی تعلقات محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

 

بھارت، جو روسی اسلحے اور سمندر کے راستے آنے والے روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، نے پیوٹن کو ان کے دو روزہ دورۂ بھارت پر شاندار انداز میں خوش آمدید کہا۔ یہ پیوٹن کا 2022 میں یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد پہلا بھارتی دورہ ہے۔

 

یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب نئی دہلی امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کر رہا ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر روسی تیل کی خریداری کے باعث عائد اضافی محصولات میں کمی لائی جا سکے۔

 

روس کا کہنا ہے کہ وہ 2030 تک بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کا خواہاں ہے، اور چاہتا ہے کہ بھارت روس سے زیادہ مصنوعات درآمد کرے تاکہ تجارت متوازن ہو سکے۔

 

مودی نے روس-بھارت شراکت کو "رہنمائی کرنے والا ستارہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ باہمی عزت اور اعتماد پر مبنی تعلقات ہر آزمائش پر پورا اترے ہیں۔ 

 

دونوں رہنماؤں نے 2030 تک کے اقتصادی تعاون کے ایک فریم ورک پر اتفاق کیا ہے جس سے تجارت اور سرمایہ کاری کو زیادہ متنوع، متوازن اور پائیدار بنانے میں مدد ملے گی۔

 

مودی نے یوکرین میں امن کی حمایت کا اعادہ بھی کیا، جبکہ پیوٹن نے یقین دہانی کرائی کہ امریکا کی پابندیوں کے باوجود بھارت کو ایندھن کی بلاتعطل فراہمی جاری رہے گی۔

 

 انہوں نے تامل ناڈو کے کدنکلم میں بھارت کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ کی تعمیر سے متعلق تعاون کا بھی ذکر کیا۔

 

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی تناؤ کے باوجود روس-بھارت تعلقات بیرونی دباؤ کے سامنے مضبوط کھڑے ہیں۔

 

 پیوٹن کو جمعے کے روز راشٹرپتی بھون میں 21 توپوں کی سلامی کے ساتھ باضابطہ استقبالیہ دیا گیا۔

 

دورے کے دوران کئی معاہدوں پر بھی اتفاق ہوا جن میں روس میں بھارتیوں کے لیے روزگار کے مواقع، مشترکہ کھاد ساز فیکٹری، اور زراعت، صحت اور شپنگ کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔

 

 دفاعی شعبے میں بھی مشترکہ ریسرچ، جدید دفاعی نظاموں کی تیاری، اور روسی فوجی سازوسامان کی بھارت میں مرمت کے لیے پرزہ جات کی مقامی تیاری پر اتفاق کیا گیا۔

 

ایک انٹرویو میں پیوٹن نے امریکی دباؤ کو چیلنج کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر امریکا روسی جوہری ایندھن خرید سکتا ہے تو بھارت کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر ٹرمپ سے گفتگو کریں گے۔

 

بھارت کا مؤقف ہے کہ امریکا کی جانب سے لگائے گئے محصولات غیر منصفانہ ہیں، جبکہ خود امریکا بھی ماسکو کے ساتھ تجارت جاری رکھے ہوئے ہے۔