تازہ ترین - 02 مارچ 2026
ذیابطیس کے مریضوں میں اچانک دل کے دورے سے موت کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے,نئی تحقیق
تازہ ترین - 08 دسمبر 2025
ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ذیابطیس کے مریضوں میں اچانک دل کے دورے سے موت کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔
اس تحقیق کو یورپین ہارٹ جرنل میں شائع کیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 دونوں قسم کے مریض ہر عمر میں اس اضافی خطرے کا سامنا کرتے ہیں، جو ان کی مجموعی اوسط عمر پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
محققین نے 2010 میں ڈنمارک کی پوری آبادی کے ہیلتھ ریکارڈز کا جائزہ لیا۔ 54 ہزار سے زیادہ اموات میں سے تقریباً 6900 اموات اچانک دل بند ہونے کے باعث ہوئیں۔
نتائج سے پتا چلا کہ ٹائپ 2 ذیابطیس کے مریضوں میں اس خطرے کا امکان 6.5 گنا زیادہ ہے، جبکہ ٹائپ 1 ذیابطیس کے مریضوں میں یہ خطرہ 3.7 گنا بڑھ جاتا ہے۔ 50 سال سے کم عمر افراد میں یہ شرح مزید بڑھ کر 7 گنا تک پہنچ جاتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ذیابطیس نہ صرف اچانک موت کا خطرہ بڑھاتا ہے بلکہ مریضوں کی اوسط عمر بھی کم کرتا ہے۔ ٹائپ 1 کے مریض اوسطاً 14 سال اور ٹائپ 2 کے مریض تقریباً 8 سال کم عمر پاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خون میں شکر کی زیادتی، دل کی بیماریاں، اعصابی نظام کو نقصان، اور بے ترتیب دل کی دھڑکن جیسے عوامل اس خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ اگرچہ ذیابطیس اور اچانک دل کے دورے کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت نہیں کیا جا سکا، تاہم دونوں کے درمیان مضبوط ربط ضرور موجود ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ دل کے امراض کے خطرات کو کم کرنے کے لیے مؤثر اور جارحانہ حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے۔ نئی ادویات جیسے GLP-1 اور SGLT2 اس حوالے سے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں، جبکہ مستقبل میں اسمارٹ ڈیوائسز اور امپلانٹس بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دیکھیں

