دنیا - 01 جنوری 2026
2025: موسمیاتی آفات نے پاکستان کو بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا
پاکستان - 01 جنوری 2026
سال 2025 پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے اعتبار سے نہایت تباہ کن ثابت ہوا، جہاں شدید ہیٹ ویوز، تباہ کن سیلاب، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور کلاؤڈ برسٹ جیسے واقعات نے قیمتی جانیں لے لیں اور معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔
اگرچہ پاکستان عالمی سطح پر کاربن اخراج میں نہایت معمولی حصہ رکھتا ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات کا بوجھ سب سے زیادہ اسی کو اٹھانا پڑا۔
سال کے دوران ملک کو اسموگ، غیر معمولی گرمی، فلیش فلڈنگ، لینڈ سلائیڈنگ اور شدید سیلاب جیسے خطرات کا سامنا رہا، جس کے باعث پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہو گیا جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
سال 2025 کا آغاز اسموگ سے ہوا، جبکہ اپریل سے شدید ہیٹ ویوز نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ بھکر، شہید بینظیر آباد اور دیگر علاقوں میں درجہ حرارت 50 سے 55 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔
مون سون کے دوران بونیر میں پتھروں کے سیلاب سے کئی افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ مختلف شہروں میں شدید ژالہ باری نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔
جون کے اختتام سے ستمبر تک خیبرپختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے میدانی اضلاع سیلاب کی لپیٹ میں رہے۔ ہزاروں گھر منہدم ہو گئے، سڑکیں اور انفراسٹرکچر تباہ ہوا، کھڑی فصلیں برباد ہوئیں اور لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے۔ ان آفات کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد اموات ہوئیں جبکہ 45 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے۔
ایشین ڈیویلپمنٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق بدترین موسمی حالات کے باعث پاکستان کی معیشت کو تقریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سال 2026 میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
شدید بارشیں، طویل ہیٹ ویوز، پانی کی قلت اور سماجی عدم استحکام جیسے چیلنجز ملک کو بیک وقت درپیش رہنے کا امکان ہے، جبکہ شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے اچانک سیلاب کے خدشات بھی بڑھ جائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی پالیسیوں پر فوری اور مؤثر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ عوام کو بدلتے موسموں سے متعلق بروقت آگاہی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
دیکھیں

