امریکا نے وینزویلا پر فضائی حملے کیے، زمینی فوج بھی اتارنے کی تیاریاں

news-banner

دنیا - 03 جنوری 2026

امریکا نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس اور دیگر ریاستوں میں فضائی حملے کیے ہیں، جن میں ملک کی اہم فوجی تنصیبات اور وزارت دفاع کو نشانہ بنایا گیا۔

 

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کا حکم دیا، اور کاراکاس میں کم از کم سات زور دار دھماکے سنے گئے۔

 

 شہریوں نے امریکی فوجی ہیلی کاپٹر سی ایچ 47 چینوک کو بھی اڑتے ہوئے دیکھا، جس کے بعد امریکی دھمکیوں کے حوالے سے جنگ کے خدشات بڑھ گئے۔

 

دھماکوں کے بعد کئی علاقوں میں بجلی غائب ہوگئی اور آسمان میں دھواں دیکھا گیا۔

 

 امریکی حملے میں وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو لوپیز کے گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ان سے رابطہ ممکن نہیں۔

 

وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور صدارتی محل کے گرد بکتربند گاڑیاں گشت کر رہی ہیں۔ 

 

مادورو نے کہا کہ امریکا وینزویلا کے تیل اور معدنیات پر قبضہ کرنا چاہتا تھا، مگر وہ ناکام رہے گا۔

 

اس دوران امریکی میرینز کی وینیزویلا میں زمینی کارروائیوں کی بھی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

 

 نیکولس مادورو نے نیشنل ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔

 

 یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا اور وینیزویلا کے تعلقات کشیدہ ہیں، خاص طور پر امریکا کی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں اور دباؤ کے بعد۔