کیا کیٹو ڈائٹ جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھا رہی ہے؟ نئی تحقیق نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا

news-banner

تازہ ترین - 07 جنوری 2026

وزن تیزی سے کم کرنے کے لیے مقبول کیٹو ڈائٹ سے متعلق ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس کے ممکنہ طویل مدتی نقصانات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ 

 

ماہرینِ صحت کے مطابق زیادہ چکنائی اور نہایت کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل خوراک وقت گزرنے کے ساتھ جگر کے کینسر کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔

 

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مسلسل چکنائی سے بھرپور غذا جگر کے خلیات کی ساخت اور افعال کو بدل دیتی ہے۔

 

 جب جگر طویل عرصے تک چکنائی کے دباؤ میں رہتا ہے تو اس کے خلیات ایک غیر پختہ حالت اختیار کر لیتے ہیں، جو ابتدا میں تو خلیے کو زندہ رکھنے میں مدد دیتی ہے، مگر مستقبل میں کینسر جیسی خطرناک بیماریوں کے امکانات بڑھا دیتی ہے۔

 

ماہرین کے مطابق اس دوران جگر کے معمول کے افعال سے متعلق جینز غیر فعال ہونے لگتے ہیں جبکہ خلیاتی بقا سے جڑے جینز زیادہ مضبوط ہو جاتے ہیں۔

 

 یہی عدم توازن آگے چل کر جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔

 

یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے Cell میں شائع ہوئی، جس میں چوہوں پر تجربات کیے گئے۔

 

 نتائج کے مطابق طویل عرصے تک زیادہ چکنائی والی غذا کھانے والے تقریباً تمام چوہوں میں جگر کا کینسر پیدا ہو گیا۔ 

 

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ انسانوں میں یہ عمل عموماً 20 برس کے دوران مکمل ہوتا ہے، تاہم شراب نوشی، وائرل انفیکشنز اور غیر صحت مند طرزِ زندگی اس خطرے کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

 

ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ کیٹو ڈائٹ وزن کم کرنے اور بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں وقتی فائدہ دیتی ہے، لیکن اس کے طویل المدتی اثرات کو نظرانداز کرنا مستقبل میں سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔