ایران میں مظاہروں پر صدر کی ہدایت: پرامن احتجاجیوں کے خلاف کارروائی نہ کی جائے
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سیکیورٹی فورسز کو ہدایت دی ہے کہ وہ پرامن مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں اور مسلح شرپسندوں اور پرامن احتجاج کرنے والوں کے درمیان واضح فرق کریں۔
ایران کے مختلف شہروں میں مہنگائی اور کرنسی کی گراوٹ کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔
غیر سرکاری تنظیم "ایران ہیومن رائٹس" کے مطابق، دسمبر 28 سے شروع ہونے والے مظاہروں میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے 13 ہلاکتیں رپورٹ کی ہیں جن میں سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
نائب صدر محمد جعفر غائم پناہ نے کہا کہ جو لوگ پولیس اسٹیشنز یا فوجی تنصیبات پر اسلحہ یا ہتھیار لے کر حملہ کرتے ہیں، وہ شرپسند ہیں، اور مظاہرین کو ان سے الگ کرنا ضروری ہے۔
دوسری جانب، ایرانی آرمی چیف جنرل امیر حاتمی نے خبردار کیا کہ ایران بیرونی خطرات کو برداشت نہیں کرے گا، اور اگر دشمن کوئی غلطی کرے تو ایران کا ردعمل پچھلے جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ سے بھی زیادہ سخت ہوگا۔
بین الاقوامی سطح پر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ مظاہرین کو قتل کیا گیا تو وہ ایران میں مداخلت کر سکتے ہیں، جبکہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے احتجاج کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔