افغان نمائندے نے طالبان کے کامیابی کے دعوے مسترد کر دیے، 2025 کو عالمی تنہائی اور ناکامیوں کا سال قرار

news-banner

دنیا - 10 جنوری 2026

جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں تعینات افغان نمائندے نے افغان طالبان حکومت کے خودساختہ کامیابی کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

 

 ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتی تنہائی، سفارتی ناکامیاں اور دہشت گردی میں اضافہ کسی کامیابی نہیں بلکہ غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

 

افغانستان کے مقامی جریدے دی کابل ٹریبیون کے مطابق افغان نمائندے نصیر احمد اندیشہ نے دی ڈپلومیٹ میں لکھا کہ طالبان کی جانب سے 2025 کو کامیابی کا سال قرار دینا حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ 

 

انہوں نے 2025 کو طالبان حکومت کے لیے عالمی تنہائی، سفارتی ناکامیوں اور اسٹریٹجک بحرانوں کا سال قرار دیا۔

 

نصیر احمد اندیشہ نے کہا کہ طالبان حکومت نہ صرف اپنے اتحادیوں سے محروم ہو چکی ہے بلکہ اس نے عالمی سطح پر اپنی ساکھ اور قانونی حیثیت بھی کھو دی ہے۔ 

 

پاکستان، ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ایران سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے انسانیت کے خلاف جرائم پر سینئر طالبان کمانڈرز کے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

 

 نصیر احمد اندیشہ کے مطابق طالبان کی نااہلی نے افغان قومی ریاست کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ خواتین اور عام شہری آج بھی بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔