چار سالہ سوتیلے بچے کے قتل کیس میں نامزد خاتون کی ضمانت منظور، سپریم کورٹ کا حکم

news-banner

پاکستان - 13 جنوری 2026

سپریم کورٹ نے چار سالہ سوتیلے بچے کے قتل کے مقدمے میں نامزد خاتون کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اس کی رہائی کا حکم دے دیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔

 

سماعت کے دوران ملزمہ کے وکیل ذوالفقار بھٹہ نے مؤقف اپنایا کہ ان کی موکل مدعی کی دوسری اہلیہ ہے اور استغاثہ اس کے خلاف کوئی عینی گواہ یا ناقابلِ تردید شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔

 

 وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزمہ اس وقت جیل میں ہے اور دورانِ حراست اس کے ہاں ایک بچے کی پیدائش بھی ہوئی ہے، جبکہ مقتول بچہ پہلے سے دمے کا مریض تھا۔

 

مدعی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مدعی گھر سے جاتے وقت بچے کو بالکل ٹھیک حالت میں چھوڑ کر گیا تھا، تاہم اسکول سے واپسی پر گھر میں بچے کی لاش موجود تھی۔

 

 استغاثہ کے مطابق گھریلو تنازع کے دوران ملزمہ نے پہلے بچے کو زہریلی شے کھلائی اور بعد میں گلا دبا کر قتل کیا۔

 

سماعت کے دوران جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچے کی موت قدرتی نہیں تھی۔

 

 تاہم جسٹس ملک شہزاد نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسے ثابت ہوگا کہ بچے کو قتل کرنے والی ماں ہی تھی، اور ریمارکس دیے کہ اکثر مقدمات میں تفتیش اور استغاثہ کی خامیوں کے باعث کیس متاثر ہو جاتا ہے۔

 

تمام دلائل سننے کے بعد عدالت نے ملزمہ کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اس کی رہائی کا حکم جاری کر دیا۔ واضح رہے کہ اس واقعے کا مقدمہ 26 مئی کو تھانہ ننکانہ صاحب میں درج کیا گیا تھا۔