دنیا - 14 جنوری 2026
آئی ایم ایف کے بغیر معاشی ترقی کا ہدف، وزیراعظم نے تین اہم کمیٹیاں قائم کر دیں
کاروبار - 14 جنوری 2026
وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) پر انحصار کم کرنے اور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تین اعلیٰ سطحی کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب معاشی گروتھ سے متعلق گورننس کمیٹی کی سربراہی کریں گے، جبکہ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال برآمدات میں اضافے اور ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں بہتری کے لیے قائم کمیٹی کے سربراہ مقرر کیے گئے ہیں۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کے اہداف کے مطابق قانونی اصلاحات کے لیے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ لیگل کمیٹی کی قیادت کریں گے۔
وزارت منصوبہ بندی کی ورکنگ دستاویز میں برآمدات کے فروغ میں درپیش سنگین چیلنجز کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی برآمدی مسابقت مسلسل دباؤ کا شکار ہے، جس کی بڑی وجوہات مہنگی اور غیر مستحکم توانائی، پیچیدہ ٹیکس نظام، پالیسیوں میں عدم تسلسل اور اضافی ریگولیٹری بوجھ ہیں۔
دستاویز میں بتایا گیا کہ بجلی اور گیس کے نرخ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں اور بار بار تبدیلیوں کے باعث پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے، جس سے صنعتی، زرعی، معدنی، ماہی گیری اور خدمات کے شعبے متاثر ہو رہے ہیں اور برآمدی آرڈرز دیگر ممالک کو منتقل ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کاروبار کرنے کی مجموعی لاگت بھی غیر معمولی حد تک زیادہ ہے، جس کی وجہ غیر مؤثر ٹیکس ڈھانچہ، ایڈوانس ٹیکس کٹوتیاں، سیلز ٹیکس ریفنڈ میں تاخیر اور ورکنگ کیپٹل کا پھنس جانا ہے، جو خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
پالیسی کے عدم تسلسل کو سرمایہ کاری اور عالمی خریداروں کے اعتماد کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ محدود مالی سہولتیں، بلند شرح سود اور لاجسٹکس سے متعلق رکاوٹیں بھی برآمدی نظام کو کمزور کر رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور آئندہ ہفتے وزیراعظم کو بریفنگ دی جائے گی۔ حکومت نے 2035 تک 120 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف مقرر کیا ہے۔
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے خبردار کیا ہے کہ اگر 2029-30 تک 60 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف حاصل نہ کیا گیا تو پاکستان کو دوبارہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے۔
دیکھیں

