لاہور ہائیکورٹ نے معمولی جھگڑے میں قتل کے الزام میں سزائے موت پانے والے مجرم کو بری کر دیا

news-banner

دنیا - 14 جنوری 2026

لاہور ہائیکورٹ نے معمولی جھگڑے پر شہری کو قتل کرنے کے الزام میں سزائے موت پانے والے مجرم الفت کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کر دیا۔

 

دو رکنی بینچ جس میں جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ شامل تھے، نے اپیل پر فیصلہ سنایا۔ ٹرائل کورٹ نے 2022 میں ملزم کو سزائے موت سنائی تھی، تاہم عدالت نے چار سال بعد یہ سزا کالعدم قرار دی۔

 

سماعت کے دوران ملزم کے وکیل چوہدری ولایت علی نے دلائل پیش کیے۔ جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ پراسیکیوشن کے کیس میں متعدد نقائص پائے گئے اور وقوعہ کی رپورٹ میں تاخیر نے عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی۔

 

عدالت نے نوٹ کیا کہ واقعے کی رپورٹ دو گھنٹے بعد درج کی گئی۔

 

 گولی لگنے کے بعد زخمی کو موٹر سائیکل پر ہسپتال منتقل کیا گیا، مگر نہ تو موٹر سائیکل اور نہ ہی ہسپتال لے جانے والے افراد کے کپڑوں کو ریکارڈ میں شامل کیا گیا، اور پوسٹ مارٹم نو گھنٹے بعد کیا گیا، جس پر عدالت نے سوالات اٹھائے۔

 

ان وجوہات کی بنیاد پر عدالت نے ملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کر دیا۔ ملزم کے خلاف تھانہ صدر فاروق آباد میں قتل کے تحت مقدمہ درج تھا۔