انٹرٹینمنٹ - 17 جنوری 2026
صدر ٹرمپ کا غزہ کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ کا اعلان، امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز
دنیا - 17 جنوری 2026
امریکا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق 20 نکاتی امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے، جس میں اب توجہ جنگ بندی سے ہٹ کر غیر عسکری، تکنوکریٹک حکمرانی اور تعمیرِ نو پر مرکوز کی جا رہی ہے۔
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ جمعے کو متعارف کرایا گیا اعلیٰ سطحی ’بورڈ آف پیس‘ جنگ زدہ غزہ کو استحکام کی جانب لے جانے کی ایک اہم کوشش ہے۔
وٹکوف کے مطابق دوسرے مرحلے کے تحت غزہ میں ایک عبوری تکنوکریٹک فلسطینی انتظامیہ قائم کی جائے گی، جسے نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کا نام دیا گیا ہے، جبکہ غزہ کی مکمل غیر عسکری اور غیر مجاز مسلح عناصر کے خاتمے کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔
انہوں نے حماس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، جن میں آخری ہلاک شدہ یرغمالی کی لاش کی واپسی بھی شامل ہے، بصورتِ دیگر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وٹکوف نے کہا کہ پہلے مرحلے میں تاریخی انسانی امداد فراہم کی گئی، جنگ بندی برقرار رہی، تمام زندہ یرغمالیوں کو رہا کرایا گیا اور 28 میں سے 27 ہلاک شدہ یرغمالیوں کی باقیات واپس لائی گئیں۔
انہوں نے مصر، ترکی اور قطر کے کردار کو بھی سراہا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ایک ایگزیکٹو پینل تشکیل دیا گیا ہے، جس میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر، عالمی بینک کے صدر اجے بنگا اور سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر شامل ہیں۔
یہ بورڈ حکمرانی، علاقائی سفارتکاری، تعمیرِ نو کے لیے مالی وسائل اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کی نگرانی کرے گا، جبکہ امریکا غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس تعینات کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔
اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود زمینی صورتحال کشیدہ ہے، حماس کی جانب سے اسلحہ ڈالنے سے انکار اور وقفے وقفے سے جھڑپوں کے باعث پائیدار امن کے امکانات غیر یقینی دکھائی دیتے ہیں۔
دیکھیں

