کھیل - 20 جنوری 2026
پاکستان کو بائی پاس کرنا بھارت اور طالبان کے لیے ناممکن
دنیا - 20 جنوری 2026
گزشتہ ہفتے طالبان حکومت کے تحت مقرر ہونے والے پہلے افغان ناظم الامور نور احمد نور کے نئی دہلی کے دورے نے بھارت اور افغان طالبان کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت کی واضح نشاندہی کی۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی تصویر میں نور احمد نور کو جوائنٹ سیکریٹری (پاکستان، افغانستان و ایران) کے ساتھ دیکھا گیا، جو ایک خاموش مگر اہم سفارتی تبدیلی کی علامت ہے۔
ایک جانب پاک–بھارت تعلقات جمود کا شکار ہیں اور دوسری طرف طالبان–پاکستان روابط میں تیزی سے تناؤ بڑھ رہا ہے۔
ایسے ماحول میں کابل اور نئی دہلی اپنے اپنے تزویراتی مفادات کے لیے ایک "ٹیکٹیکل ری سیٹ" کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم اس قربت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ جغرافیہ ہے۔ افغانستان کی عالمی منڈیوں تک رسائی اب بھی بڑی حد تک پاکستان پر منحصر ہے۔
اسی انحصار سے بچنے کے لیے بھارت اور افغانستان نے متبادل راستے تلاش کیے، جن میں ایران کی چا بہار بندرگاہ کو سب سے زیادہ امید افزا منصوبہ قرار دیا گیا۔
مگر اب یہ امید بھی دم توڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران پر ممکنہ امریکی پابندیوں کے خوف کے باعث بھارت خاموشی سے چا بہار میں فعال شمولیت سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔
پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ جوہر سلیم کے مطابق چا بہار کو سیاسی طور پر ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بائی پاس کرنے کا تصور شروع سے ہی عملی کم اور سیاسی زیادہ تھا، کیونکہ جغرافیہ کو خواہشات کے مطابق تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
ایران میں پاکستان کے سابق سفیر آصف درانی نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ چا بہار کا راستہ معاشی طور پر غیر مؤثر ثابت ہوا اور یہ کراچی بندرگاہ یا واہگہ کے زمینی راستے کے مقابلے میں 40 سے 45 فیصد زیادہ مہنگا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بھارت چا بہار سے مزید پیچھے ہٹتا ہے تو افغانستان کے محدود تجارتی راستے مزید سکڑ جائیں گے، جس کے نتیجے میں کابل کو ایک بار پھر پاکستان کی بندرگاہوں، سڑکوں اور ٹرانزٹ انفراسٹرکچر پر انحصار کرنا پڑے گا۔
دیکھیں

