پاکستان - 14 اپریل 2026
بالائی علاقوں میں شدید برفباری، نظامِ زندگی مفلوج، سڑکیں بند، سیاح محصور، 2 افراد جاں بحق
تازہ ترین - 23 جنوری 2026
ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے ہیں۔
مختلف شاہراہیں بند ہونے سے مقامی آبادی اور سیاح محصور ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ مختلف حادثات میں دو افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
برفباری اور شدید سردی کے باعث سڑکوں پر پھسلن بڑھ گئی ہے جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔
شمالی بلوچستان میں برفانی طوفان کے باعث کوئٹہ–زیارت شاہراہ پر درجنوں گاڑیاں پھنس گئیں جبکہ چمن کے اطراف میں 100 سے زائد سیاح گاڑیوں میں محصور ہیں۔
این 50 شاہراہ پر متعدد مقامات پر ٹریفک معطل ہو گئی۔
پھسلن کے باعث این 50 شاہراہ پر 9 مختلف حادثات پیش آئے جن میں 27 افراد زخمی ہوئے۔ کوژک ٹاپ پر درجہ حرارت منفی 12 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔
شیلاباغ کے قریب گاڑیوں کے تصادم میں 2 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہو گئے۔
خیبرپختونخوا کے اضلاع مانسہرہ، گلیات، شانگلہ، دیر، کالام، چترال اور خیبر میں بھی شدید برفباری ہوئی۔
وادی تیراہ میں 100 کے قریب گاڑیاں پھنس گئیں جبکہ 35 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
گلگت بلتستان کے ضلع استور میں 2 سے 3 فٹ برفباری کے باعث زمینی رابطے منقطع ہو گئے ہیں۔
آزاد کشمیر اور مری میں بھی بارش اور برفباری جاری ہے، مری ایکسپریس وے جزوی طور پر بند کر دی گئی۔
ریسکیو 1122 کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور کئی افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
دیکھیں

