خیبرپختونخوا ، پاکستان کا پہلا ورچوئل سکول قائم ، اے آئی ٹیچر متعارف کرانے کا فیصلہ

news-banner

پاکستان - 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں جدید تعلیمی اصلاحات سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

 

 اجلاس میں خیبرپختونخوا حکومت نے پبلک سیکٹر میں پاکستان کا پہلا ورچوئل اسکول قائم کرنے اور اے آئی ٹیچر متعارف کرانے کا انقلابی اقدام کیا ہے۔ 

 

وزیر اعلیٰ نے اے آئی ایجوکیشن اتھارٹی کے قیام کی اصولی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہوم ورک مکمل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ 

 

وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ ورچوئل اسکولز کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے والے بیرون ملک اور اسکول سے باہر طلبا کو بھی باقاعدہ طلبا کا درجہ دیا جائے۔

 

 انہوں نے کہا کہ ورچوئل اسکولز اور اے آئی ٹیچر کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ منصوبہ خاص طور پر دور دراز علاقوں کے طلبا کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔

 

 اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پائلٹ منصوبے کے تحت صوبے کے 46 سرکاری اسکولوں کو آن لائن نظام تعلیم پر منتقل کیا جا چکا ہے، جن میں 33 بندوبستی اضلاع اور 13 ضم اضلاع کے اسکول شامل ہیں۔ 

 

مزید بتایا گیا کہ جون میں ترقیاتی پروگرام کے تحت منصوبے کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے مزید 175 اسکولوں کو بھی ورچوئل اسکولوں میں تبدیل کیا جائے گا۔ 

 

منصوبے کے تحت ایک مرکزی ڈیجیٹل تدریسی اسٹوڈیو قائم کیا گیا ہے جہاں سے لائیو انٹرایکٹو کلاسز اور لیکچرز کی ریکارڈنگ کی سہولت دستیاب ہوگی۔ 

 

اے آئی ٹیچر کے ذریعے انگریزی، ریاضی، فزکس، کیمسٹری اور حیاتیات جیسے مضامین پڑھائے جا رہے ہیں، جبکہ یہ سہولت اردو، انگریزی اور پشتو زبانوں میں 24 گھنٹے دستیاب ہوگی۔ 

 

بریفنگ کے مطابق اس منصوبے کی مجموعی لاگت 153.80 ملین روپے ہے جبکہ ٹیلی تعلیم مرکز کے قیام پر 44.85 ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔

 

 یہ منصوبہ خیبرپختونخوا میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔