کھیل - 04 مارچ 2026
ہائی کورٹس کا دائرہ اختیار محدود، فیصلے جذبات نہیں قانون کے تحت ہوں گے: وفاقی آئینی عدالت
پاکستان - 03 فروری 2026
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئین کے تحت ہائی کورٹس کا دائرہ اختیار محدود ہے اور عدالتی فیصلے ہمدردی یا جذبات کے بجائے قانون کے مطابق کیے جانے چاہئیں۔
عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا وہ حکم ختم کر دیا جس کے تحت ایک طالبعلم کو اسپیشل یا سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ قانون، قواعد یا ضوابط میں ایسے کسی امتحان کی اجازت موجود نہیں، اس لیے ہائی کورٹس ہمدردی، مساوات یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر ایسے احکامات جاری نہیں کر سکتیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ہمدردی یا اخلاقیات قانون کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ ججز پر لازم ہے کہ وہ انصاف قانون کے مطابق کریں، نہ کہ جذبات کے زیرِ اثر۔
عدالتیں ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی کی بنیاد پر قانون سے ہٹ کر کوئی معیار نافذ نہیں کر سکتیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ عدالتی فیصلے ذاتی عقائد یا سیاسی حقائق پر مبنی نہیں ہو سکتے۔
عدلیہ کی ساکھ قانون پر عمل درآمد میں ہے، نہ کہ جذباتی فیصلوں میں۔
پاکستان افراد کے نہیں بلکہ آئین کے تحت چلنے والی ریاست ہے، اور ججز غیرجانبدار منصف ہوتے ہیں، نجی افراد نہیں۔
ہمدردی کو قانونی ذمہ داری پر ترجیح دینا عدالتی منصب سے انحراف کے مترادف ہے۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ ہائی کورٹس خود آئین کی تخلیق ہیں اور آرٹیکل 199 کے تحت محدود اختیارات رکھتی ہیں۔
وہ صرف وہی اختیار استعمال کر سکتی ہیں جو آئین یا قانون نے فراہم کیا ہو، اور کوئی بھی عدالتی فورم آئینی حدود سے تجاوز کا مجاز نہیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے یہ بھی وضاحت کی کہ آرٹیکل 187 کے تحت اگر کسی حد تک ہمدردی کا اختیار موجود ہے تو وہ صرف سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کو حاصل ہے۔
یہ کیس شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے ایک طالبعلم سے متعلق تھا جو گردے کی پیوندکاری کے باعث سالانہ اور سپلیمنٹری امتحانات میں شرکت نہ کر سکا۔
طالبعلم کی جانب سے وائس چانسلر کو دی گئی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں گیا، جہاں خصوصی امتحان کی اجازت دی گئی۔
تاہم وفاقی آئینی عدالت نے اس فیصلے کو آئین اور قانون سے ماورا قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔
یہ اہم فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے 18 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے کی صورت میں جاری کیا۔
دیکھیں

