امریکا ایران کے خلاف ممکنہ طویل جنگ کی تیاری میں مصروف، حملوں میں ریاستی تنصیبات بھی نشانہ بن سکتی ہیں

news-banner

دنیا - 16 فروری 2026

واشنگٹن: غیر ملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی فوج مبینہ طور پر ایران کے خلاف ممکنہ طویل جنگ کی تیاری کر رہی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

 

 رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تیاری ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ احکامات پر عمل درآمد کے لیے کی جا رہی ہے۔

 

عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ موجودہ منصوبہ بندی ماضی کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہے اور کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں صرف ایرانی جوہری تنصیبات ہی نہیں بلکہ ریاستی اور سکیورٹی سے متعلق مقامات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

 

 تاہم اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

 

رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ ایران کی جانب سے سخت جوابی کارروائی ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں طرف سے حملوں اور ردعمل کا سلسلہ طویل ہو سکتا ہے اور خطے میں تنازع پھیلنے کا خطرہ موجود ہے۔

 

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے اس حوالے سے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران سے متعلق تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں اور حتمی فیصلے قومی سلامتی کے مفاد میں کیے جائیں گے۔

 

 دوسری جانب پینٹاگون نے اس معاملے پر فوری ردعمل نہیں دیا۔

 

ادھر ایرانی پاسداران انقلاب (اسلامی انقلابی گارڈ کور) نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی سرزمین پر حملہ کیا گیا تو وہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

 

یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات عمان کی ثالثی میں جنیوا میں متوقع ہیں، جن میں امریکی نمائندے اسٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کشنر شرکت کریں گے۔