ایران سے کشیدگی میں اضافہ، امریکا نے قطر اور بحرین سے ہزاروں فوجی اہلکار نکال لیے

news-banner

دنیا - 23 فروری 2026

امریکا نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر قطر اور بحرین میں قائم اہم فوجی اڈوں سے اپنے سیکڑوں بلکہ ہزاروں فوجی اہلکار نکال لیے ہیں۔

 

 امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ اقدام ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق قطر کے العدید ایئر بیس اور بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ سے منسلک تنصیبات سے فوجیوں کی منتقلی کی گئی۔

 

 العدید ایئر بیس مشرق وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے، جہاں تقریباً 10 ہزار اہلکار تعینات ہیں اور یہ امریکی فضائی کارروائیوں کا مرکزی مرکز سمجھا جاتا ہے۔

 

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کو فوری جنگ کی تیاری کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اس کا مقصد کسی اچانک کشیدگی کی صورت میں فوجیوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ 

 

اس کے باوجود امریکا کے فوجی دستے عراق، شام، کویت، سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے مختلف ممالک میں بدستور موجود ہیں۔

 

دوسری جانب امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ سوال کر رہے ہیں کہ اتنی بڑی فوجی اور بحری طاقت کے باوجود ایران نے ابھی تک ہتھیار کیوں نہیں ڈالے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر آئندہ 48 گھنٹوں میں جوہری معاہدے سے متعلق ایرانی تجاویز پیش کر دی گئیں تو جنیوا میں مزید مذاکرات متوقع ہیں، جس کی تصدیق عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البسیدی نے بھی کی ہے۔

 

ادھر ایرانی کمانڈر علی جہاں شاہی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی افواج دشمن کی ہر نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

 

 رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں پابندیوں میں نرمی اور ایران کے تیل کے شعبے میں ممکنہ امریکی سرمایہ کاری پر بھی غور کیا جا سکتا ہے، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے تیل اور معدنی وسائل پر مکمل کنٹرول برقرار رکھے گا۔