حکومت نے بعد از 2025 سیلاب جامع جائزہ شروع کر دیا، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے ڈیٹا طلب

news-banner

پاکستان - 23 فروری 2026

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے بعد از 2025 سیلاب جامع اسیسمنٹ کا آغاز کر دیا ہے اور پنجاب و خیبرپختونخوا سے تفصیلی ڈیٹا طلب کر لیا ہے۔

 

وزارتِ منصوبہ بندی کے تحت فلڈ لاسز، ریکوری اور ریزیلینس کے لیے روڈمیپ تیار کیا جائے گا۔

 

 پنجاب کے 14 اضلاع، بشمول بہاولنگر، بہاولپور، خانیوال، ملتان، نارووال، اوکاڑہ، ساہیوال اور سیالکوٹ، اور خیبرپختونخوا کے بونیر، شانگلہ اور سوات سے ڈیٹا طلب کیا گیا ہے۔

 

وفاقی حکومت کو ہاؤسنگ، ایجوکیشن، ہیلتھ، ایگریکلچر اور لائیو اسٹاک کے مکمل ڈیٹا کی ضرورت ہے تاکہ تباہ شدہ گھروں، سکولوں اور سرکاری عمارتوں کا تخمینہ لگایا جا سکے۔

 

 2010، 2011، 2014 اور 2022 کے سیلابی تجربات کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ پالیسی میں موجود خلا اور کمیوں کی نشاندہی ہو سکے اور موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں رسک انفارمڈ پلاننگ پر زور دیا جائے۔

 

جائزے میں عالمی ادارے ورلڈ بینک، اے ڈی بی اور یو این ڈی پی بھی شراکت دار ہوں گے۔ ابتدائی رپورٹ مارچ کے وسط تک اور فائنل رپورٹ اپریل کے اختتام تک متوقع ہے۔

 

اس جائزے میں زرعی نقصانات، فصلوں کی پیداوار، مارکیٹ ریٹس اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی دوبارہ تعمیر کی لاگت شامل ہوگی، جبکہ ریکوری کے لیے مالی وسائل کی حکمت عملی بھی تیار کی جائے گی۔ 

 

صوبائی حکومتوں کو فوری اور درست ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، اور آئندہ مون سون سے قبل رسک ریڈکشن اقدامات پر بھی زور دیا گیا ہے۔

 

وفاقی حکومت نے ڈیزاسٹر رسپانس کے بجائے پیشگی تیاری کو ترجیح دی ہے۔ متاثرہ اضلاع کی کیس اسٹڈیز رپورٹ کا حصہ ہوں گی اور ڈیٹا کی بنیاد پر بین الاقوامی معاونت حاصل کرنے کی حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔

 

 اس کے نتائج مستقبل کی ترقیاتی منصوبہ بندی اور قومی سطح پر کلائمٹ ایڈاپٹیشن پالیسی کو مزید مؤثر بنانے میں مدد کریں گے۔